بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

برے خواب سے آنے والے وسوسوں کا علاج


سوال

میری بہن نے میرے بارے میں ایک برا خواب دیکھاپھر مجھے کہا کہ صدقہ دے دو، اس وقت میرے پاس مرغی کا ایک انڈا تھا، میں نے وہ انڈا سات مرتبہ وار کے چھت پر پھینک دیا، اب مجھے شدید وہم ہو رہا ہے کہ اگر خدانخواستہ میرا انتقال ہو گیا تو میرے چھوٹے بچے کا کیا بنے گا؟ حالانکہ میں اللہ کے نام پر غریبوں کوبہت صدقہ دیتی رہتی ہوں اور ہمیشہ اچھی چیز کھانا، کپڑے وغیرہ دیتی ہوں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں برے خواب کی وجہ سے وہم اور وسوسہ کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ حسبِ استطاعت معمول کے مطابق صدقہ دیتے رہنا چاہیے، جس سے ان شاء اللہ بلائیں ٹل جاتی ہیں،البتہ صدقہ دینے کا طریقہ یہ ہے کہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کے حصول کے لیے خوش دلی سےکسی بھی مستحق شخص کوکچھ دے دیا جائے،نیزسر پر خاص تعداد میں وارنا،یاوار کرپھینکنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، لہٰذا ایسے طریقوں سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

اور اگر اس خواب کی وجہ سے زیادہ وسوسہ ہو، تو درج ذیل دعا کا ورد کریں:

"اللَّهُمَّ لَا يَأْتِ بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ."

”ترجمہ:اے اللہ! بھلائیاں آپ کے سوا کوئی نہیں لا سکتا اور برائیاں آپ کےسوا کوئی دور نہیں کر سکتا، اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اورنیکی کرنے کی قوت صرف آپ کی طرف سے ہے۔“

مشکاۃ المصابیح بمیں ہے:

"وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بادروا ‌بالصدقة فإن البلاء لا يتخطاها . رواه رزين."

(كتاب الزكاة، ‌‌باب الإنفاق وكراهية الإمساك، الفصل الثالث، ج: 1، ص: 591، ط: المكتب الإسلامي)

ترجمہ:حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”صدقہ کرنے میں پہل کرو، کیونکہ بلا صدقہ کے آگے نہیں بڑھ سکتی۔“

شرح النووی علی مسلم میں ہے:

"عن عروة بن عامر الصحابي رضي الله عنه قال ذكرت الطيرة عندرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أحسنها الفأل ولا يرد مسلمافإذا رأى أحدكم مايكره فليقل ‌اللهم ‌لايأتى ‌بالحسنات ‌إلا أنت ولايدفع السيئات إلاأنت ولاحول ولاقوة إلابك رواه أبو داود بإسناد صحيح قوله صلى الله عليه وسلم."

(كتاب السلام، باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان، ج: 14، ص: 224، ط: دار إحياء التراث العربي)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

‌‌"الصدقة بفتح الدال لغة: ما يعطى على وجه التقرب إلى الله تعالى لا على وجه المكرمة .ويشمل هذا المعنى الزكاة وصدقة التطوع.وفي الاصطلاح: تمليك في الحياة بغير عوض على وجه القربة إلى الله تعالى، وهي تستعمل بالمعنى اللغوي الشامل، فيقال للزكاة: صدقة، كما ورد في القرآن الكريم: {إنما الصدقات للفقراء والمساكين} الآية .ويقال للتطوع: صدقة كما ورد في كلام الفقهاء وتحل لغني، أي صدقة التطوع ،يقول الراغب الأصفهاني: الصدقة: ما يخرجه الإنسان من ماله على وجه القربة كالزكاة. لكن الصدقة في الأصل تقال: للمتطوع به، والزكاة تقال: للواجب والغالب عند الفقهاء: استعمال هذه الكلمة في صدقة التطوع خاصة."

(حرف الصاد، صدقة، ج: 26، ص: 323، ط: دار الصفوۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101206

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں