بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الاول 1448ھ 22 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

بریلوی حضرات مشرک نہیں


سوال

جب بریلوی حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے بارے میں ایسے عقائد رکھتے ہیں جو کہ شرکیہ ہیں یعنی انبیاء کرام کے لیے حاضر ناظر، مختار کل وغیرہ ،تو پھر ان پرمشرک ہونے کا فتوی کیوں نہیں؟

جواب

بریلویوں کو مشرک نہیں کہا جاسکتا،  کیوں کہ ان میں جو حضرات مشرکانہ عقائد یا اعمال کے حامل ہیں وہ بھی تاویل کرتے ہیں۔

فتح القدیر میں ہے:

"و اعلم أن الحكم بكفر من ذكرنا من أهل الأهواء مع ما ثبت عن أبي حنيفة والشافعي - رحمهم الله - من عدم تكفير ‌أهل ‌القبلة من المبتدعة كلهم محمله أن ذلك المعتقد نفسه كفر، فالقائل به قائل بما هو كفر، وإن لم يكفر بناء على كون قوله ذلك عن استفراغ وسعه مجتهدا في طلب الحق ..."

(فتح القدير، كتاب الصلاة، ، باب الإمامة 1/ 351 ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 143803200023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں