بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

باپ کی موجودگی میں بچی کے مالی امور کا شرعی ولی کون ہے؟


سوال

میری بیوی 16 گریڈ کی آفیسر تھی، اس کے انتقال کے بعد حکومت کی طرف سے جو مراعات وغیرہ ملتی ہیں، جیسے پنشن وغیرہ، وہ عدالت نے میری بیٹی اور میرے نام پر جاری کی ہیں، لیکن میری سالی نے عدالت میں ایک درخواست جمع کرائی ہے کہ عدالت اس کو اجازت دے کہ وہ یہ سارے کاغذات (یعنی پرورش کے کاغذات) وہ خود بنائے، تا کہ وہ اس میں اپنا بینک اکاؤنٹ بھی شامل کرے، اور وہ ان پیسوں کو استعمال کرے، حالاں کہ میں تمام کاغذات بنا چکا ہوں۔

میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا باپ کی موجودگی میں کوئی اور، جیسے میری سالی، میری بیٹی کے اکاؤنٹ کو مینیج کر سکتی ہے؟ جب کہ مجھے ان پر بالکل بھی اعتماد نہیں ہے، اور مجھے یہ ڈر بھی ہے کہ وہ اس آڑ میں پیسوں کا استعمال کریں گی؟

جواب

واضح رہے کہ اولاد کے مالی معاملات کا ذمہ دار والد ہوتا ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں والد(سائل)کی موجودگی میں سائل کی سالی کا عدالت میں سائل کی بیٹی کے مالی معاملات کو سنبھالنے کی درخواست جمع کرانا جائز نہیں،سائل کی بیٹی کے مالی معاملات کا ذمہ دار سائل ہی ہے ۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"اعلم أن الحضانة حق الصغير لاحتياجه إلى من يمسكه فتارة يحتاج إلى من يقوم بمنفعة بدنه في حضانته وتارة إلى من يقوم بماله حتى لا يلحقه الضرر وجعل كل واحد منهما إلى من أقوم به وأبصر فالولاية في المال جعلت إلى الأب والجد؛ لأنهم أبصر وأقوم في التجارة من النساء."

(کتاب الطلاق، باب الحضانة،ج:4، ص:180، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(والولاية في مال الصغير) (إلى الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه) إذ الوصي يملك الإيصاء (ثم إلى) الجد (أبي الأب ثم إلى وصيه) ثم وصي وصيه (ثم إلى القاضي ثم إلى من نصبه القاضي) ثم وصي وصيه (وليس لوصي الأم) ووصي الأخ (ولاية التصرف في تركة الأم مع حضرة الأب أو وصيه أو وصي وصيه أو الجد) أبي الأب (وإن لم يكن واحد مما ذكرنا فله) أي لوصي الأم (الحفظ) وله (بيع المنقول لا العقار) ولا يشتري إلا الطعام والكسوة؛ لأنهما من جملة حفظ الصغير خانية."

"(قوله إلى الأب) حيث لم يكن سفيها، أما الأب السفيه لا ولاية له في مال ولده أشباه في الفوائد من الجمع والفرق، وفي جامع الفصولين،ليس للأب تحرير قنه بمال وغيره ولا أن يهب ماله ولو بعوض ولا إقراضه في الأصح، وللقاضي أن يقرض مال اليتيم والوقف والغائب، وليس لوصي القاضي إقراضه، ولو أقرضه ضمن، وقيل يصح للأب إقراضه إذ له الإيداع فهذا أولى اهـ عدة كذا في الهامش (قوله يملك الإيصاء) سواء كان وصي الميت أو وصي القاضي منح.(قوله ثم وصي وصيه) قال في جامع الفصولين في 27 ولهم الولاية في الإجارة في النفس والمال والمنقول والعقار، فلو كان عقدهم بمثل القيمة أو يسير الغبن صح لا بفاحشه، ولا يتوقف على إجازته بعد بلوغه؛ لأنه عقد لا مجيز له حال العقد وكذا شراؤهم لليتيم يصح بيسير الغبن ولو فاحشا نفذ عليهم لا عليه، ولو بلغ في مدة الإجارة، فلو كانت على النفس تخير أبطل أو أمضى، ولو على أملاكه فلا خيار له، وليس له فسخ البيع الذي نفذ في صغره. فصط، قيل إنما يجوز إجارتهم اليتيم إذا كانت بأجر المثل لا بأقل منه، الصحيح جوازه ولو بأقل اهـ كذا في الهامش، وقوله فصط هو رمز لفوائد صاحب المحيط."

(کتاب الوکالة، ‌‌فصل لا يعقد وكيل البيع والشراء، ج:5، ص:528، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701102134

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں