
میری بیوی کا انتقال ہو گیا تھا، اور میری ایک بیٹی ہے، میں نے اپنی بیٹی کو دودھ پلانے کی صرف اپنی بھابھی کو دی تھی، لیکن میری سالی زبردستی میرے گھر سے میری بیٹی کو لے گئی اور اس کو میری اجازت کے بغیر دودھ پلانا شروع کر دیا، اور اس پر وہ یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ وہ میری اجازت سے دودھ پلا رہی ہے، حالاں کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، میں نے ان کو دودھ پلانے کی اجازت کبھی بھی نہیں دی۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا باپ کی اجازت کے بغیر کوئی عورت کسی کی بیٹی کو دودھ پلا سکتی ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ کسی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی اولاد کو دودھ پلانا مکروہ ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی سالی کا اس کی بیٹی کو دودھ پلانا جب کہ متبادل بھی موجود ہے، مکروہ ہے، لیکن چوں کہ دودھ پلادیا ہے تو سائل کی بیٹی کی رضاعت مذکورہ عورت سے ثابت ہوگئی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے :
"يكره للمرأة أن ترضع صبيا بلا إذن زوجها إلا إذا خافت هلاكه۔"
(کتاب النکاح، باب الرضاع، ج:3، ص، 213، ط: سعید)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے :
"(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) ."
(كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:3، ص: 213، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701102135
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن