بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بینکوئیٹ، ہال جس میں منکرات نہ ہوں اس میں ولیمہ کی تقریب منعقد کرنا کیسا ہے؟


سوال

بندہ سندھ بلوچ ہاؤسنگ سوسائٹی، گلستان جوہر میں رہائش پذیر ہے،میرے بھتیجے اور بھتیجی کی شادی کے دعوتِ ولیمہ کا انتظام بینکوئیٹ میں کرنے کے سلسلے میں آپ سے شریعت کی روشنی میں راہ نمائی درکار ہے۔

اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ اس وقت سوسائٹی میں شامیانہ لگا کر دعوت ولیمہ کرنے میں مندرجہ ذیل رکاوٹیں اور پریشانیاں ہیں:

1- تعمیرات کی وجہ سے پلاٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے جگہ کی تنگی۔
2- پلاٹ پر دعوت ولیمہ کے انتظامات پر تقریباً تین لاکھ روپے کے اخراجات آ رہے ہیں۔
3- پلاٹ پر شامیانہ لگا کر دعوت ولیمہ کرنے کے سیٹ اپ کو اپنی مرضی کے مطابق کروانے پر مشقت بہت ہوتی ہے۔
4- آج کل کی گرمیوں کی وجہ سے پردے کے انتظام کے بعد مہمانوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
5- بیت الخلاء نہ ہونے سے بھی مہمانوں اور ان کے بچوں کو گھروں میں لے جانا پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔
6- جنریٹر کا انتظام کر کے اس کی طرف سے بھی تشویش رہتی ہے۔

ان وجوہات کی بنا پر ہم نے دو عدد بینکوئیٹ، جو بالکل متصل ہیں، ان میں دعوت ولیمہ کا انتظام کیا ہے، ایک میں مردوں کا اور دوسرے میں عورتوں کا انتظام ہے، جس کی مندرجہ ذیل بقیہ  تفصیل ہے:

1- اخراجات تقریباً ایک لاکھ روپے آ رہے ہیں، بوجہ بینکوئیٹ والے ہمارے رشتہ دار ہیں۔
2- دونوں بینکوئیٹ کے داخلی دروازوں میں کافی فاصلہ ہے، اس لیے مردوں اور عورتوں کے اختلاط کا بھی کوئی موقع نہیں ہے۔
3- لائٹنگ کے اسراف سے بچنے کی بات بھی انتظامیہ سے کر لی ہے۔
4- مہمانوں کے اکرام کے لیے ایئرکنڈیشن کا بھی انتظام ہے، جس سے وہ اطمینان سے کھانا کھا سکتے ہیں۔
5- ان بینکوئیٹ کے اتنے قریب دیگر بینکوئیٹ بھی نہیں ہیں، جس سے کوئی اختلاط اور دیگر مفاسد کا سامنا کرنا پڑے۔

اس تفصیل کے بعد آپ سے شریعت کی روشنی میں راہ نمائی درکار ہے کہ اس طرح بینکوئیٹ میں دعوتِ ولیمہ کا انتظام کرنا اور اس میں شریک ہونا صحیح ہے؟

اس کے علاوہ بینکوئیٹ میں تقریبات کے انعقاد اور ان میں شرکت سے متعلق راہ نما اصول کی نشان دہی بھی درکار ہے۔

جواب

کسی تقریب کو منعقد کرنےاور اس کے لئے جگہ مختص کرنے کا تعلق اس تقریب کے ناجائز امور سے پاک ہونے نہ ہونے پر ہے، لہذا اگر کسی تقریب میں کوئی ناجائز کام مثلا گانا بجانا، تصویر سازی، ویڈیو گرافی، بے پردگی، مردوں اور عورتوں کامخلوط اجتماع ہو تو ایسی تقریب منعقد کرنااوراس تقریب  کےلیےبینکوئیٹ کومختص کرنا جائز نہیں ہے ، اور اگر کسی تقریب میں یہ سب ناجائز کام نہ ہوں تو ایسی تقریب منعقد کرنا اور اس کے لیے بینکویٹ  مختص کرنا جائز ہے .

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی بینکوئیٹ ،ہال میں شادی کی تقریب کے دوران کسی قسم کے ناجائز کام کا ارتکا ب نہیں کیا گیا توبینکوئیٹ ،ہال میں شادی کی تقریب منعقد کرنےمیں شرعاًکوئی حرج نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"(دعي إلى وليمة وثمة لعب أو غناء قعد وأكل) لو المنكر في المنزل، فلو على المائدة لا ينبغي أن يقعد بل يخرج معرضا لقوله تعالى: - {فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين} (فإن قدر على المنع فعل وإلا) يقدر (صبر إن لم يكن ممن يقتدى به فإن كان) مقتدى (ولم يقدر على المنع خرج ولم يقعد) لأن فيه شين الدين والمحكي عن الإمام كان قبل أن يصير مقتدى به (وإن علم أولا) باللعب (لا يحضر أصلا) سواء كان ممن يقتدى به أو لا لأن حق الدعوة إنما يلزمه بعد الحضور لا قبله ابن كمال."[وفي رد المحتار:]"(قوله وإن علم أولا) أفاد أن ما مر فيما إذا لم يعلم قبل حضوره (قوله لا يحضر أصلا) إلا إذا علم أنهم يتركون ذلك احتراما له فعليه أن يذهب إتقاني."

(كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 348، ط: سعيد) 

 فتاوی ہندیہ میں ہے: 

"من دعي إلى وليمة فوجد ثمة لعبا أو غناء فلا بأس أن يقعد ويأكل، فإن قدر على المنع يمنعهم، وإن لم يقدر يصبر وهذا إذا لم يكن مقتدى به أما إذا كان، ولم يقدر على منعهم، فإنه يخرج، ولا يقعد، ولو كان ذلك على المائدة لا ينبغي أن يقعد، وإن لم يكن مقتدى به وهذا كله بعد الحضور، وأما إذا علم قبل الحضور فلا يحضر؛ لأنه لا يلزمه حق الدعوة بخلاف ما إذا هجم عليه؛ لأنه قد لزمه، كذا في السراج الوهاج وإن علم المقتدى به بذلك قبل الدخول، وهو محترم يعلم أنه لو دخل يتركون ذلك فعليه أن يدخل وإلا لم يدخل، كذا في التمرتاشي."

(كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص: 343،ط: دار الفكر) 

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال: اگر کسی شادی یا تقریب میں انگریزی باجہ یا کھیل تماشہ ہو تو وہاں کی دعوت قبول کرنا یاخود وہ طعام جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب حامدا و مصلياً:

ایسی شادی میں شرکت نہیں کرنا چاہیے، دعوت بھی قبول نہ کی جائے، مگر اس طعام کو حرام نہیں کہا جاسکتا ، کیوں کہ اس کا مدار اصل مال کی حرمت پر ہے۔"

"سوال: زید تمام جگہ فسق فجور سے پرہیز کرتا ہے، اور جہاں گانا وغیرہ ہوتا ہے اس دعوت میں شرکت بھی نہیں کرتاہے، تو اگر کہیں کھانا کھاتے وقت وہ فسق وفجور نہ ہو اور دعوت والے یہ کہتے ہیں کہ ہم بعد میں گانا بجانا کریں گے، یا کوئی نہ کہے بلکہ مکمل یقین دہانی ہوجائے تو کیا ایسے شخص کو وہاں دعوت کھانا چاہیے یا نہیں ؟

الجواب حامدا و مصلياً:

زید اگر مقتدیٰ ہے تو اس کو ایسی دعوت سے احتراز چاہیے، اگر عامی ہے تو گنجائش ہے ، لیکن اگر یہ خیال ہو کہ اس کی شرکت کے لیے وہ لوگ فسق و فجور ترک کردیں گے تو زید کو حددرجہ اہتمام چاہیے۔"

(کتاب الحظر والاباحۃ، باب الضیافات والہدایا، ج:18، ص:129/130، ط:ادارۃا لفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100053

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں