
آج کل متعدد بینکوں کی جانب سے "اسلامی کار فنانسنگ" کی سہولت (خصوصاً میزان بینک) پیش کی جا رہی ہے، جس میں مرابحہ / اجارہ منتہی بالتملیک کے ذریعے ادائیگی کی جاتی ہے۔ عمومی طور پر اس فنانسنگ کو شریعت کے مطابق بتایا جاتا ہے، تاہم عوام کو مکمل وضاحت و اطمینان حاصل نہیں ہو پاتا۔ میں مؤدبانہ طور پر اس حوالے سے شرعی رہنمائی چاہتا ہوں کہ: آیا میزان بینک کی کار فنانسنگ کی موجودہ اسکیم شرعی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں؟ اگر اس میں کوئی شرعی سقم یا احتیاطی پہلو ہو تو براہِ کرم تفصیل سے آگاہ فرمائیں۔ اگر ممکن ہو تو وہ شرائط یا نکات بھی بیان کر دیں جن کا صارفین کو معاہدہ کرتے وقت خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر اس فنانسنگ کے متبادل مزید بہتر یا زیادہ موافق اسلامی طریقہ موجود ہو تو اس کی بھی راہنمائی فرما دیں۔
صورتِ مسئولہ میں مروجہ اسلامی بینک سے گاڑی لینا جائز نہیں ہے،کیوں کہ مروجہ اسلامی بینکوں سے گاڑی لینے کے معاملہ میں کئی شرعی احکام کی خلاف ورزی لازم آتی ہےکہ اس معاملہ ( مروجہ اسلامی بینک سےگاڑی لیتے وقت بیک وقت دو عقد ایک ہی ساتھ کیے جاتے ہیں ،جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی وقت میں دو معاملہ کرنے سے ممانعت فرمائی ہے ،زیرِ نظر مسئلہ میں ایک عقد بیع کا ہوتا ہے جس کی بناء پر قسطوں کی شکل میں ادائیگی خریدار پر واجب ہوتی ہےاور دوسرا عقد اجارہ ( کرایہ ) کا ہوتا ہے،کہ ہر ماہ بینک کرائے کی مد میں خریدار سے کرایہ بھی وصول کرتا ہے اور اسی کرایہ کی رقم کو ماہانہ قسطوں کی صورت میں گاڑی کی قیمت میں وصول کیا جاتا ہے اور جس دن گاڑی کی قیمت کے بقدر کرایہ کی رقم پوری ہوجاتی ہے تو یہ گاڑی خود بخود خریدار کی ملکیت میں آجاتی ہے اور یہ دونوں عقد صورتاً یا حکماً ایک ساتھ ہی کیے جاتے ہیں جو کہ شرعاً ناجائز ہیں ،نیز اس معاملہ میں یہ شرط ہوتی ہے کہ کوئی قسط اگر وقت پر ادا نہ کی گئی تو اس صورت میں اجباری تصدق کے نام سے مالی جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا،جو کہ ناجائز ہے۔
اسی لیےجمہور علمائے کرام اور مقتدر مفتیانِ کرام کی رائے کے مطابق مروجہ اسلامی بینکوں کے معاملات مکمل طور پر شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں؛ اس لیےکسی بھی مروجہ اسلامی بینک کے ساتھ معاملات کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ تفصیلی بحث کے لیے ’’مروجہ اسلامی بینکاری‘‘ نامی کتاب کا مطالعہ کریں۔
البتہ، مذکورہ مسئلے میں جائز صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بینک پہلے گاڑی خریدےخود قبضہ میں لے پھر اس کے بعد قیمت متعین کرکے آخر تک قسطوں میں اس کو وصول کرے، کسی قسط کی تاخیر پر جرمانہ یا تصدق کی شرط نہ رکھے، اور اس میں کرایہ بھی شامل نہ کرے، آخر تک صرف متعین قیمت کی رقم ہی وصول کرے، ڈالر کی قیمت میں کمی زیادتی یا افراط زر کی وجہ سے مقررہ قیمت میں کسی قسم کا اضافہ نہ کرے تو جائز ہوگا۔
ترمذی شریف میں ہے:
"عن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة."
(أبواب البيوع، باب ما جاءفي النهي عن بيعتين في بيعة، ج:1، ص:364، ط:رحمانية)
البحر الرائق میں ہے:
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(کتاب الحدود، فصل في التعزیر، ج:5، ص:44، ط:دار الکتاب الإسلامی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100665
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن