
بینک سٹیٹمنٹ کے لیے لون لینا اور اس پر کمیشن دینا کیسا ہے ؟
بینک سٹیٹمنٹ کے لیے لون لینا اور اس پر کمیشن دینا شرعاً ناجائز اورحرام ہے، کیونکہ اس میں درج ذیل دوخرابیاں پائی جاتی ہیں :
(1)سٹیٹمنٹ کے لیے لون لینا محض ایک دکھاوے کے لیے ہوتا ہے تاکہ مالی حیثیت زیادہ ظاہر ہو ایسا کرنا دھوکہ دہی میں شمار ہوتا ہے، جو شرعاً ممنوع ہے۔
(1)لون لےکراس پرجوکمیشن دیناہے وہ سودکےزمرہ میں آتاہے جوکہ شریعتِ مطہرہ میں قطعی حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"عن ابن مسعود مرفوعا ولفظه :من غشنا فليس منا، والمكر والخداع في النار» ".
( کتاب الدیات،رقم :3520،ج:6،ص:2300،ط:دار الفكر، بيروت - لبنان)
اعلاء السنن میں ہے:
"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".
(کتاب الحوالہ،باب کل قرض جرمنفعۃ،ج:14،ص:513،ط: إدارۃ القرآن)
المحيط البرهاني میں ہے:
"ذكر محمد رحمه الله في كتاب الصرف عن أبي حنيفة رضي الله عنه: أنه كان يكره كل قرض فيه جر منفعة، قال الكرخي: هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد".
(الفصل التاسع والعشرون في القرض ما يكره من ذلك، وما لا يكره، ج:5، ص:394، ط:دارالكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144610100007
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن