بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے حاصل ہونے والے سود کا مصرف


سوال

 احقر نے کچھ عرصہ پہلے ایک باغ فروخت کیا تھا جس کی رقم بذریعہ چیک بینک میں جمع کی گئی تھی وہ رقم کچھ عرصہ بینک میں رہنے کی وجہ سے بینک کی طرف سے اس رقم پر کچھ پیسے بطورِ انٹرسٹ (بیاج) وصول ہوئے ہیں، حکومت کے موجودہ حالات کے پیشِ نظراس رقم کا کیا حکم ہے؟ احقر نے بینک کی طرف سے بطورِ انٹرسٹ موصول شدہ رقم کو بغیر نیت ثواب کے کچھ غریبوں کے مکانات بنانے، غریب بچیوں کے نکاح کرانے اور غریبوں کے قرضہ ادا کرنے میں صرف کیا ہے، البتہ ابھی بھی انٹرسٹ کی کچھ رقم باقی ہے، دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ بقیہ انٹرسٹ کی رقم اگر کسی ایسے مدرسہ کے مستحق و غریب طلبہ کو بغیر نیتِ ثواب کے مالک بنایا جائے کہ جس مدرسہ کا بجٹ بالکل ختم ہو اور تعلیمی سال کا ایک بڑا حصہ ابھی  باقی ہو۔ اگر وہ رقم بغیر نیت ثواب کی شرط کے ساتھ غریب اور مستحق طلبہ کے اخراجات میں صرف کی جائے تو از روئے شرع اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر آپ نے اپنے اختیار سے ایسے اکاؤنٹ میں پیسے رکھے تھے، جس  میں پیسے رکھنے پر بینک کی طرف سے سود ملتا ہے تو اس پر توبہ  و استغفار لازم ہے،کیوں کہ ایسے اکاؤنٹ میں رقم رکھنا درحقیقت سودی معاملہ کرنا تھا۔

جو رقم نکلوائی  ہے اورکسی مستحق پر مالکانہ طورپر خرچ کردی ہے وہ خرچ کرنا درست ہوگیا ہے یعنی سود سے خلاصی ہوگئی ہے اور جو باقی رہ گئی ہے، اس کے بارے میں بھی حکم یہی ہے کہ بغیر ثواب کی نیت کے غریب مستحقین زکات پر صدقہ کردی جائے، اب چاہے وہ مدرسہ کے طلبہ ہوں، یا ان کے علاوہ کوئی اورہوں۔

البحر الرائق میں ہے:

"ولا يأخذون منه شيئا وهو الأولى لهم ويردونه على أربابه إن عرفوهم، وإلا يتصدقوا به؛ لأن سبيل ‌الكسب ‌الخبيث ‌التصدق إذا تعذر الرد."

(كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:385، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100262

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں