بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 صفر 1448ھ 12 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے قرضہ لینا


سوال

 میں بینک سے قرضہ لینا چاہتا ہوں، تو کیا  میں بینک سے قرضہ لے سکتا ہوں یا نہیں؟ کیوں کہ مختلف بینکوں میں شرح فیصد مختلف ہوتی ہے، کسی میں 10 فیصد، کسی میں 15فیصد، کسی میں 20 فیصد، تو کیا ان سب صورتوں میں لینا جائز نہیں؟ یا کسی میں جائز بھی ہے؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

کیا میں  اسلامی بینک سے کوئی فائدہ اٹھا  سکتا ہوں یا اسلامی بینک اور روایتی بینک دونوں ایک ہی طرح کام کرتے ہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح  رہے کہ  روایتی  بینکوں سے جو بھی  قرضہ لیا جاتا ہے  اس پر  اضافی رقم دینا پڑتی ہے،اور قرض لے کر جو اضافی رقم دی جاتی ہے  وہ سود ہے، جس  کا لینا ، دینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے،  خواہ شرح سود کم ہو یا زیادہ ہو،  قرآنِ  کریم اور احادیثِ  مبارکہ  میں  سودی معاملات  کرنے  والوں  کے  لیے  سخت وعیدیں وارد  ہوئی  ہیں ؛ اس لیے اس سے احتراز  لازم اور ضروری ہے۔

نیز  مروجہ اسلامی بینکوں میں بھی کچھ نہ کچھ سُقم ہر بینک کے معاملات میں  پایا جاتا ہے؛  اس لیے اسلامی بینک سے بھی قرضہ نہ لیا جائے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ . فَإِن لَّمْ تفعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ . وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ .(سورة البقرة: ٢٧٨-٢٨٠)

ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو  اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طر ف سے اور اگر تم توبہ کرلوگےتو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر کوئی  ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو اور زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔ 

(بیان القرآن، ج:1، ص:200، ط: دارالاشاعت )

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ‌جابر قال:  لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آكل ‌الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء."

(كتاب البيوع،  ‌‌باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج:3، ص:1219، ط:دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ:اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت کی ہے سود کھانے والے پر، اس کے کھلانے والے پر، اس کے لکھنے والے پر اور اس کے گواہوں پر، اور فرمایا: یہ سب برابر ہیں۔

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة  فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".

(14/513، باب کل قرض جرّ منفعة، کتاب الحوالة، ط: إدارۃ القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100661

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں