بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری، نیز میزان و فیصل بینک کے شیئرز خریدنے کا شرعی حکم


سوال

1)میں میزان بینک میں رقم جمع کراناچاہتاہوں اور یہ رقم میں میوچل فنڈ میں جمع کراؤں گااور اس میں نفع اور نقصان دونوں ہوسکتاہےتو کیامیرے لیے یہ نفع لیناجائزہے یانہیں؟

2)میزان بینک اور فیصل بینک جو کہ بینک اسلامی ہیں ان کے شئیر بیچناخریدناجائزہے یانہیں ؟اور جس نے شئیر خریدلیے اس کے منافع ملے تو یہ لیناجائز ہے یانہیں ؟

جواب

1)صورت مسئولہ میں سائل کےلیے بینک میں میوچل فنڈ میں رقم لگاناشرعاجائزنہیں اور  اس کی آمدنی بھی حلال نہیں ۔

2)نیزچوں کہ  بینکوں کی غالب آمدنی سودی ذرائع سے ہوتی ہے خواہ وہ مروجہ غیر سودی بینک ہی کیوں نہ ہو  ،لہذا  میزان بینک اور فیصل بینک کے شئیرز کی  خریدوفروخت جائز نہیں ،اور جس نے خریدا اس کےلیے ان کے منافع حلال نہیں،اپنی اصل رقم واپس لے لے اور منافع  ثواب کی نیت کے بغیر  صدقہ کردے۔

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"‌وقوله ‌تعالى ‌وتعاونوا ‌على ‌البر ‌والتقوى ‌يقتضي ‌ظاهره ‌إيجاب ‌التعاون ‌على ‌كل ‌ما ‌كان ‌تعالى ‌لأن ‌البر ‌هو ‌طاعات ‌الله ‌وقوله ‌تعالى ‌ولا ‌تعاونوا ‌على ‌الإثم ‌والعدوان ‌نهي ‌عن ‌معاونة ‌غيرنا ‌على ‌معاصي ‌الله ‌تعالى."

(سورۃ المائدۃ، ج:3، ص:296، ط:دار إحياء التراث العربي)

تجارت کے مسائل کاانسائیکلوپیڈیامیں ہے:

"(الف) جس موجود کمپنی یا چالو کاروبار یا کارخانے کے حصص خرید و فروخت کئے جارہے ہیں اس کا سر ما یہ جائز اور حلال ہو ، رشوت ، غصب ، چوری ، خیانت ، سود ، جوئے ، سٹہ پر حاصل شدہ رقم نہ ہو ، لہذا سودی ادارہ جیسے بینک یا انشورنس کمپنی یا ہر وہ کمپنی جس میں سود یا جوئے کا کاروبار ہوتا ہو اس کے شیئرز کی خرید و فروخت جائز نہیں ہوگی ، کیونکہ ان کے ذرائع آمدنی نا جائز ہیں، اور کاروبار نا جائز ہے، لہذا جو شخص ان کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت کرے گا وہ نا جائز اور حرام کاروبار میں شامل ہو جائے گا، جو کہ گناہ اور معصیت ہے۔"

(عنوان:شیئرز کی خرید وفروخت،ج:4،ص:282،ط:بیت العمار)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102355

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں