بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بینک ملازم کے بچے کو پڑھا کر فیس وصول کرنا


سوال

ایک آدمی  بینک ملازم کے بچے کو پڑھانے  جاتا ہے اور فیس بھی اس سے لیتا ہے،  اس میں کوئی  حرج تو نہیں ہے؟  اگر ہےتوکیاہے؟

جواب

اگر کوئی شخص کسی بینک کے ملازم کے گھر اُس کے بچے کو ٹیوشن پڑھانے جاتا ہو اور اُس سے فیس وصول کرتا ہو تو ٹیوشن پڑھانے والا چوں کہ  اپنے پڑھانے کی فیس وصول کرتا ہے اور پڑھانا ایک جائز کام ہے ؛ اور مذکورہ صورت میں فیس میں دی گئی رقم (یعنی نوٹ کا سودی ہونا مصرح و ) متعین نہیں؛  اس لیے ٹیوٹر   کا بینک ملازم سے فیس وصول کرنا جائز ہو گا، تاہم اس میں کراہت ہوگی ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 189):

وإن كانا مما لا يتعين فعلى أربعة أوجه فإن أشار إليها ونقدها فكذلك يتصدق (وإن أشار إليها ونقد غيرها أو) أشار (إلى غيرها) ونقدها (أو أطلق) ولم يشر (ونقدها لا) يتصدق في الصور الثلاث عند الكرخي قيل (وبه يفتى) والمختار أنه لا يحل مطلقا كذا في الملتقى ولو بعد الضمان هو الصحيح كما في فتاوى النوازل واختار بعضهم الفتوى على قول الكرخي في زماننا لكثرة الحرام وهذا كله على قولهما۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200598

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں