بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک ملازم کی دعوت قبول کرنے اور آدھی آستین والی شرٹ میں نماز پڑھنے کا حکم


سوال

1.میری سب سے بڑی بیٹی کا  ایک بیٹا(نواسہ) اور اس  کی بیوی   بینک میں ملازمت کرتےہیں،میری بیٹی مجھے کھانے پر بلاتی ہے تو میں منع کردیتا ہوں،کیا بینک  میں ملازمت کرنا جائز ہے،اور اس کی آمدنی حلال ہے؟

2.بہت سے لوگ ٹی شرٹ پہن کر نماز پڑھتے ہیں،کیا یہ جائز ہے؟ 

جواب

1.شرعی طور پر بینک کی کمائی حلال نہیں ہے؛  لہذا جو شخص بینک کا ملازم ہو  اور وہ  اپنی اسی  کمائی سے  دعوت کرے تو  اس میں جانا اور وہ کھانا کھانا  بھی جائز نہیں ہے،صورتِ مسئولہ میں اگر بینک کی کمائی سے کھانے کی دعوت کرے ،اور بینک کی آمدنی کے علاوہ کوئی اور حلال آمدنی نہ ہو تو اس صورت میں حرام رقم سے پکا ہوا کھاناکھانا شرعا ناجائز ہے،   اس لیے  سائل کو چاہیے کہ  گھر سے کھانا کھا کر جائے یا بیٹی کے ہاں کھانا نہ کھائے ،نیز سائل کو  چاہیے کہ اپنے نواسے کو حکمت کے ساتھ بینک کی نوکری چھوڑنے اور دوسرا ذریعہ معاش اختیار کرنے  پر آمادہ کرے۔

البتہ  اگر  مذکورہ بیٹی کا شوہر اور اس کے دیگر بیٹوں کا مذکورہ ذریعہ آمدن کے علاوہ کوئی جائز پیشہ (تجارت وغیرہ)موجود ہو اور اکثر کمائی حلال ہو اور کچھ حصہ بینک کی کمائی کا بھی ہو  یا وہ حلال رقم سے دعوت کا انتظام کرے تو اس دعوت کو قبول کرنا جائز ہے۔

2. آدھی آستین (ہاف سلیوز) والی قمیص یا شرٹ میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، اس حالت میں نماز ادا کی تو کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أهدى إلى رجل شيئاً أو أضافه، إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس، إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لايقبل الهدية ولايأكل الطعام، إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع ۔ ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور ؛ لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال، بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به ؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام، فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم".  

(کتاب الکراھیة، الباب الثانی  عشر، ج:5، ص:342، ط:رشیدیة)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين :

"(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كمّ أو ذيل.

 (قوله: كمشمر كمّ أو ذيل) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله".

(کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہ، ج:1، ص:640، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100091

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں