بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک میں آئی ٹی کے شعبے میں کام کرنا


سوال

میں ایک روایتی بینک میں بطور تجزیہ کارِ معلومات / سافٹ ویئر ڈویلپر ملازمت شروع کرنے جا رہا ہوں۔ میرا کام بینک کے بیک آفس / شعبۂ ٹیکنالوجی میں ہوگا، جس میں سافٹ ویئر نظاموں کی دیکھ بھال، نئے فیچرز بنانا، ڈیٹا بیسز کا انتظام، رپورٹس تیار کرنا، ڈیش بورڈز بنانا، اور اندرونی یا کسٹمر سے متعلقہ نظاموں کی معاونت شامل ہوگی۔ مجھے بینک سے ماہانہ تنخواہ ملے گی۔ میں براہِ راست قرضوں کی منظوری، سود کا حساب لگانے، سودی معاملات کی منظوری، یا سودی معاہدات لکھنے، بنانے یا منظور کرنے میں شامل نہیں ہوں گا۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر میرا کام صرف تکنیکی / آئی ٹی نوعیت کا ہو اور میں سودی معاملات میں براہِ راست شامل نہ ہوں، تو کیا ایسی ملازمت کرنا اور اس کی تنخواہ لینا شرعاً جائز ہے؟ 

جواب

 بینک اپنے ملازمین کو تنخواہ سودی کمائی سے ادا کرتا ہے، نیز بینک کی ملازمت میں سودی معاملات میں (کسی نہ کسی درجہ میں ) تعاون ہے؛ اس لیے بینک میں کسی بھی قسم کی ملازمت جائز نہیں۔لہذا صورتِ مسئولہ میں سودی معاملات میں براہِ راست شرکت نہ بھی ہو، صرف بینک کی کارکردگی کی بہتری اور اس کے مختلف امور کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ہو ، تب بھی بنک کی ملازمت جائز نہیں۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر قال: لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم آکل الربا، و موکله، و کاتبه، و شاهدیه، و قال: هم سواء."

(با ب لعن آکل الربا، ومؤکله، ج:2، ص:27، ط:ہندیہ)

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101515

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں