بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک میں ایڈمن (admin) یعنی انتظامی نوعیت کی نوکری کرنے کی شرعی حیثیت


سوال

 میں ”بینک الحبیب لیمیٹیڈ“ کا ملازم  ہوں، میں بینک کے ”ایڈمن ڈیویژن“ میں ہوتا ہوں، میری ذمہ داری  میں بینک کی ایک پوری بلڈنگ ہے، جس میں مختلف شعبے ہیں، اس بلڈنگ میں جو بھی ایڈمن کے حوالے سے کام کروانا ہوتا ہے، وہ میری ذمے داری ہے، میرا کام صرف کام کروانا ہے، پیسے کے حساب کتاب سے  میں بالاتر ہوں۔ شریعت کی رو سے  یہ نوکری جائز ہے کہ ناجائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے ”بینک الحبیب لیمیٹیڈ“ میں ”ایڈمن ڈیویژن“ کی نوکری کرنا شرعاً جائز نہیں ہے،کیوں کہ سودی معاملات کرنے والے ادارے میں ”ایڈمنسٹریشن“ کے شعبہ میں کام کرنا انتظامی معاملات سرانجام دینا درحقیقت اُس سودی مشینری کو چلانے میں مدد دینے کے مترادف ہے،جو کہ تعاون علی المعصیت ہے اور  قرآن و حدیث کی روشنی میں ناجائز و حرام ہے،نیزسود کی ممانعت والی احادیث مبارکہ کی رو سے سودی معاملات میں بلاواسطہ یا بالواسطہ ہر دو قسم کی معاونت کو شرعاً ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ لہذا بینک کی مذکورہ ناجائز ملازمت کے بجائے کسی جائز و حلال ملازمت اور ذریعہ معاش کا انتظام کیا جائے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

" یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَابَقِیَ مِنَ الرِّبوٰ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ، فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه "(سورۃ البقرۃ،آیت:279،278)

ترجمہ:’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑدو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگر تم اس پر عمل نہیں کروگے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے‘‘۔(از بیان القرآن)

دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

" وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ "(سورۃ المائدۃ آیت نمبر 2)

ترجمہ: ”اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ سے ڈرا کرو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والے ہیں۔“ (از بیان القرآن)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «‌هم ‌سواء»."

(كتاب المساقاة،با ب لعن آکل الربا، ومؤکله،ج:3، ص:1219، ط:دار احياء التراث العربي)

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سود لینے والے اور دینے والے اور لکھنے والے اور گواہی دینے والے پر لعنت کی ہے اور فرمایا: یہ سب لوگ اس میں برابر ہیں، یعنی اصل گناہ میں سب برابر ہیں اگرچہ مقدار اور کام میں مختلف ہیں۔(از مظاہر حق)

أحكام القرآن للجصاصؒ  میں ہے:

"وقوله تعالى:وتعاونوا على البر والتقوى يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان تعالى لأن البر هو طاعات الله وقوله تعالى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."

(سورة المائدة، ج:3، ص:296، ط:داراحياء التراث)

تفسير ابن كثيرؒ میں ہے:

"وقوله تعالى: ‌وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم."

 

(سورة المائدة، الآية: 2، ج:3، ص: 10، ط:دار الكتب العلمية)

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے:

"(سئل) في رجل استأجر من جماعة عدة آلات معدة للهو واللعب يسمونها بالمناقل والطاب والدك لأجل اللعب بها مدة معلومة بأجرة معلومة دفعها للمؤجرين وتعطل عليه منافع المأجور يعارض ويريد الرجوع على المؤجرين بنظير الأجرة المدفوعة لهم فهل يسوغ له ذلك، والإجارة المذكورة غير جائزة؟

(الجواب) : نعم قال في البدائع ومنها أن تكون المنفعة مباحة الاستيفاء فإن كانت محظورة الاستيفاء لم تجز الإجارة، وقال في الملتقى بعد ذكر كسر آلة اللهو ويصح بيع هذه الأشياء وقالا لا يضمن ولا يجوز بيعها وعليه الفتوى. اهـ.

قال في الكافي لهما أن هذه الأشياء أعدت للمعصية فبطل تقومها كالخمر، والفتوى على قولهما لكثرة الفساد فيما بين الناس. اهـ. والإجارة، والبيع أخوان لأن الإجارة بيع المنافع، والله سبحانه أعلم وعلى هذا يخرج ‌الاستئجار ‌على ‌المعاصي وأنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو وكاستئجار المغنية والنائحة للغناء والنوح بخلاف الاستئجار لكتابة الغناء والنوح فإنه جائز لأن الممنوع عنه نفس الغناء، والنوح لا كتابتهما بدائع من الإجارة، وفيها أيضا ولا تجوز إجارة الإماء للزنا لأنها إجارة على المعصية وإن شئت أفردت لجنس هذه المسائل شرطا وخرجتها عليه فقلت: ومنها أن تكون المنفعة مباحة الاستيفاء فإن كانت محظورة الاستيفاء لم تجز الإجارة. اهـ ."

 

(مسائل وفوائد شتى من الحظر والإباحة وغير ذلك، ج:2، ص:322، ط:دارالمعرفة)

فقط والله اعلم بالصواب


فتویٰ نمبر : 144709102203

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں