
موجودہ دور میں جبکہ کاروبار کے حالات خراب ہیں اور کسی انسان پر بھروسہ کرکے کاروبار میں پیسہ لگانے کی صورت میں بھی نقصان اٹھا چکے ہوں، تو عمومی طور پر بینک کے بارے میں یہ ایک اچھا تاثر پایا جاتا ہے کہ کم از کم رقم محفوظ ہاتھوں میں ہوتی ہے اور انویسٹمنٹ کی صورت میں ماہانہ آمدن بھی ممکن ہے ، تو ایسے لوگ جو سیدھے سادھے ہوں اور خود بھی اپنی رقم سے کچھ کما نہ سکتے ہوں، تو انکے خیر خواہ انکے پیسے بینک میں ڈبمپازٹ کروا سکتے ہیں ؛ تاکہ وہ معصوم لوگ کسی کے ہاتھوں اپنا نقصان نہ کروا بیٹھیں؟
واضح رہےکہ بینک چاہے روائتی (Conventional Bank)ہوں یا مروجہ غیر سودی، بہر صورت ان کا طریقہ کار شریعت سے ہم آہنگ نہیں ہے، بلکہ دونوں طرح کے بینک سودی لین دین کے علاوہ دیگر شرعی مفاسد پائے جاتے ہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں کسی بھی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم دیپازٹ کرنا جائز نہیں ہے۔
صحیح مسلم میں ہے :
"عن النعمان بن بشیر قال :سمعت رسول الله ﷺ یقول - و أهوى النعمان بإصبعيه إلى أذنيه- :إن الحلال بين وإن الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع فى الشبهات وقع فى الحرام كالراعى يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ألا ! وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه، ألا و إن في الجسد مضغة، إذا صلحت صلح الجسد كله، و إذا فسدت فسد الجسد كله، ألا و هي القلب."
”ترجمہ: بے شک حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے، پس جس شخص نے مشتبہ چیزوں سے پرہیز کیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو پاک ومحفوظ کر لیا ، اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہوا وہ حرام میں مبتلا ہو گیا، اور اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو ممنوعہ چراگاہ کی مینڈ پر چراتا ہے، قریب ہے کہ اس کے جانور اس ممنوعہ چرا گاہ میں گھس کر چرنے لگیں، جان لو ہر بادشاہ کی ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چراگاہ حرام چیزوں ہیں۔“
(كتاب المساقا و المزارعة، باب أخذ الحلال وترك الشبهات، ج :2، ص :28،ط:قديمي)
جامع ترمذی میں ہے:
"عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة». وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: «حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح»، والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولايفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما ... وهذا يفارق عن بيع بغير ثمن معلوم، ولايدري كل واحد منهما على ما وقعت عليه صفقته..."
”ترجمہ :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےایک بیع (سودا) میں دو بیع (سودوں)سے منع فرمایا ہے۔“
(أبواب البيوع، باب ماجاء في النهي عن بیعتین في بیعة، ج:1،ص:364،،ط:قدیمي )
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ» ، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ»."
”ترجمہ :حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کی گواہ بننے والوں پر لعنت کی ہے۔“
(کتاب البیوع، باب الربا، الفصل الأول، ص: 243، قدیمي)
مشكاة المصابيح میں ہے:
"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الربا سبعون جزءًا أيسرها أن ینکح الرجل أمه»."
”ترجمہ :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :سود کے ستر حصے ہیں، ان میں سب سے آسان یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرلے۔“
(کتاب البیوع، باب الربوا،الفصل الثالث، ص: 246، قدیمي)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"وعلى أن النهي عن أكل مال الغير معقود بصفة وهو أن يأكله بالباطل، وقد تضمن ذلك أكل أبدال العقود الفاسدة كأثمان البياعات الفاسدة."
( ج :3، ص :128،ط :دار إحياء التراث العربي)
عمدۃ القاری ميں ہے:
"وقال الخطابي: كل شيء يشبه الحلال من وجه والحرام من وجه هو شبهة والحلال اليقين ما علم ملكه يقينا لنفسه والحرام البين ما علم ملكه لغيره يقينا والشبهة ما لايدري أهو له أو لغيره فالورع اجتنابه ثم الورع على أقسام واجب كالذي قلناه ومستحب كاجتناب معاملة من أكثر ماله حرام ومكروه كالاجتناب عن قبول رخص الله والهدايا."
(كتاب البیوع، باب تفسير المشبھات، ج :11، ص :236،ط : دارالكتب العلمية)
اعلاء السنن میں ہے:
"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا."
(کتاب الحوالة،باب کل قرض جرّ منفعة،ج :14، ص :513، ط: إدارۃ القرآن)
مبسو ط للسرخسي میں ہے :
"وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال: إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع، وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية، وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد ... الخ."
(کتاب البیوع، باب البیوع الفاسدة، ج:13، ص:8، ط:دارالمعرفة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144802101340
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن