بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 صفر 1448ھ 18 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک میں ملازمت کے دوران خریدے گئے گھر کا حکم


سوال

والد نے پوری زندگی بینک کی نوکری کی ہے جب وہ ریٹائر ہوئے تو ان کو کچھ رقم ملی جس سے انہوں نے کچھ زمینیں خریدی،  کچھ ہی عرصے میں وہ زمین کوڑیوں کے دام بکنے لگیں ان زمینوں کو اپنی حالت میں چھوڑ دیا گیا، پھر والد نے دوسری نوکری شروع کر دی۔ الحمدللہ پھر ہمارا گھر بہن کی نوکری اور والد صاحب کی دوسری حلال نوکری سے چلتا رہا۔ کچھ سالوں بعد ان زمینوں کی قیمت بڑھنے لگی، تقریبا دس پندرہ سال بعد ان زمینوں کی قیمت اتنی ہوگئی جتنی میں خریدی تھی یا کچھ اس سے زیادہ۔

میرا یہ سوال ہے کہ کیا اولاد کے لیے اس رقم کو استعمال کرنا جائز ہے شادی کے اخراجات کے لیے یا دوسری ضروریات کےلئے؟  جیسے فیس ادا کرنا؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ بینک میں نوکری کے دوران ہی والد نے گھر خریدا تھا جس میں ہم آج رہ رہے  ہیں،  بظاہر جو لگتا ہے وہ یہی ہے کہ یہ گھر بینک کی ملازمت سے ملے ہوئے پیسوں سے خریدا گیا ہے،  جس کی قیمت خریدتے وقت تقریباً پندرہ لاکھ تھی اور اب اس کی قیمت دو کروڑ سے اوپر ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

1۔واضح رہے کہ بینک ایک سودی ادارہ ہے جو اپنے تمام تر معاملات سود کے ذریعہ کرتا ہے اوراپنے ملازمین کو تنخواہ  بینک میں جمع شدہ رقوم کے ذریعہ ہی دیتا ہے اور بینک کے کسی بھی شعبہ میں ملازمت   سودی معاملات میں تعاون ہے جوکہ جائز نہیں ؛لہذا بینک کی آمدنی حلال نہیں بلکہ ناجائز ہے۔

لہذا صور تِ  مسئولہ میں چوں کہ  سائلہ کے والد کی کمائی اور ریٹائرمنٹ کے پیسے شرعا حلال نہیں تھے اور اس رقم سے سائلہ کے والد نے  جو پراپرٹی بنائی وہ بھی شرعا  حلال نہیں،اتنی  حلال  رقم شرعاً ان پر صدقہ کرنا واجب تھی،سائلہ کے  والد کااب  چوں کہ انتقال ہوچکا ہے اور انہوں نے اپنی زندگی میں اتنی رقم صدقہ نہیں کی،  تو  اب ان کے ورثاء پر  لازم ہے کہ ترکہ کی تقسیم سے پہلے اتنی حلال رقم (جتنی رقم سے والد نے بینک کی حرام  رقم سے پراپرٹی خریدی تھی) بلا نیتِ ثواب غرباء اور فقراء میں صدقہ کریں، پھر اس کے بعد  ترکہ تقسیم کریں، اسی طرح جو رقم بینک سے کمائی تھی وہ اگر ابھی موجود ہے تو اس رقم کا بھی فقراء پر بلا نیتِ ثواب  صدقہ کرنا واجب ہے، استعمال جائز نہیں ہے۔

2۔سائل جس گھر میں رہ رہے ہیں وہ بھی چوں کہ بظاہر بینک  سے حاصل شدہ  پیسوں سے ہی بنایا گیا تھا، وہ بھی شرعا حلال نہیں ہے، لہٰذا  اگر  ورثاء  کے پاس کوئی حلال رقم ہو اور اس حلال رقم میں سے اس مکان کی قیمتِ خرید  کے بقدر غرباء و فقراء  کو دے دیں تو یہ  مکان ورثاء  کے  لیے حلال ہو جائے گا۔

ترکہ کی تقسیم سے قبل مذکورہ  صدقہ کا حکم تب ہوگا جب کہ ورثاء کے پاس مذکورہ موروثی گھر کے علاوہ کوئی گھر یا رقم ہو، البتہ اگر اس  گھر کے علاوہ کوئی گھر رہائش کے لیے نہ ہو اور اپنی ذاتی رقم سے ضرورت کے مطابق  گھر خریدنا ممکن  نہ ہو اور  رہائشی گھر کی رقم صدقہ کرنے کی صورت میں وہ بے گھر  ہو جائیں گے، تو اس صورت میں بقدر ضرورت اس گھر کو اپنی رہائش کے لیے  رکھنا جائز ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وفي حظر الأشباه: الحرمة تتعدد مع العلم بها إلا في حق الوارث، وقيده في الظهيرية بأن لا يعلم أرباب الأموال، وسنحققه ثمة.

 (قوله وسنحققه ثمة) أي في كتاب الحظر والإباحة. قال هناك بعد ذكره ما هنا لكن في المجتبى: مات وكسبه حرام فالميراث حلال، ثم رمز وقال: لا نأخذ بهذه الرواية، وهو حرام مطلقا على الورثة فتنبه. اهـ. ح، ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله كما حققناه قبيل باب زكاة المال فتأمل."

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج: 5،ص: 99، ط: سعید)

وفيه أيضاّ:

"‌‌[مطلب إذا اكتسب حراما ثم اشترى فهو على خمسة أوجه]

(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل ‌اكتسب ‌مالا ‌من ‌حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام".

(کتاب البیوع، باب المتفرقات، ج: 5، ص: 235، ط:  سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144406100281

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں