
کیا کسی بھی بینک میں چاہے اسلامی ہو غیر اسلامی ایل سی کھلوانا جائز ہے ؟ ایک صاحب کے بقول اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، کیوں کہ اس میں بینک سے ہم کسی قرض کا کوئی لین دین نہیں کرتے، نہ ہم بینک سے پیسے لیتے ہیں، بلکہ بس اتنا ہوتا ہے کہ مثلاً اگر کبھی چائنا میں ہمیں کسی کو پیمنٹ کرنی ہے اور فی الحال پیسے موجود نہیں ہیں ، تو ہم بینک سے کہیں گے اس نے اگر ہمیں (ایل سی) دے دی ، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بینک وہاں چائنا میں اس وینڈر/ کمپنی کو یہ کہے گا کہ یہ میرا کلائنٹ ہے، اور میری ذمہ داری ہے، اگر اس نے پیسے نہیں دیے تو میں دوں گا، اور ایک ٹائم لمٹ طے ہوجائے گی مثلاً: 3 /4 مہینہ کا ایک ٹائم لمٹ ہمیں مل جائےگا، اور بقول ان صاحب کے بینک اس عمل کا اضافی کچھ نہیں لے گا، ہاں جب 3/4 ماہ بعد ہم بینک میں پیسے ڈلواکر وہاں بھیجیں گے تو نارمل حالات میں جب بھی بینک سے کوئی رقم بھیجی جاتی ہے، تو اس میں بینک جو چارجز وغیرہ لیتا ہے بس بینک صرف وہی لے گا،ہاں اگر ہم وقت پر پیسے نہیں دے پائے تو بس اتنا ہوگا کہ بینک آئندہ پھر ہم پر اعتماد نہیں کرے گا اور آئندہ (ایل سی) نہیں کھول کر دے گا۔
اب کچھ معلومات نیٹ کے ذریعہ ایل سی کے متعلق درج ذیل ہے : میزان بینک کی ڈیفرڈ لیٹر آف کریڈٹ (Deferred LC) ایک اسلامی تجارتی سہولت ہے، یہ کاروباریوں کو سود (ربا) کے بغیر، ادھار پر سامان امپورٹ (درآمد) کرنے کی اجازت دیتی ہے، اسلامی بینکاری میں اسے عام طور پر مرابحہ یا وکالہ کے اصولوں کے تحت چلایا جاتا ہے، میزان بینک ڈیفرڈ ایل سی میں سپلائر (سامان بیچنے والے) کو ادائیگی فوراً نہیں کرنی ہوتی، بلکہ سامان کی روانگی یا دستاویزات ملنے کے ایک طے شدہ وقت (مثلاً 90 یا 180 دن) بعد کی جاتی ہے۔
1۔ کام کرنے کا طریقہ کار( وکالہ): بینک آپ کا ایجنٹ بن کر ایل سی کھولتا ہے اور سپلائر سے معاملات طے کرتا ہے۔
(مرابحہ): جب امپورٹ شدہ سامان بندرگاہ پر پہنچ جاتا ہے اور بینک اس کا قبضہ حاصل کر لیتا ہے، تو بینک وہ سامان آپ کو ادھار پر بیچ دیتا ہے، اس قیمت میں بینک کا ایک طے شدہ جائز منافع شامل ہوتا ہے۔
2۔ اہم خصوصیات (سود سے پاک): روایتی بینکوں کے برعکس، اس میں لیٹ پیمنٹ پر سود یا جرمانہ نہیں لیا جاتا، بلکہ یہ مکمل شرعی اصولوں کے مطابق ہوتی ہے۔
(کیش فلو میں آسانی): کاروباری حضرات کو سامان مارکیٹ میں بیچ کر پیسہ کمانے کا وقت مل جاتا ہے، جس کے بعد وہ بینک کو ادائیگی کرتے ہیں۔
(عالمی قبولیت): میزان بینک کا نیٹ ورک مضبوط ہے، اس لیے دنیا بھر کے سپلائرز اس ایل سی کو قبول کرتے ہیں۔
(ضمانت): بینک کی پالیسی کے مطابق آپ کو کچھ سیکیورٹی، مارجن یا ضمانت جمع کرانی ہوتی ہے۔
یہ سہولت کس کے لیے فائدہ مند ہے؟ 1۔ امپورٹر کے لیے: نقد رقم کی کمی کے باوجود کاروبار کو رواں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
2۔ سپلائر کے لیے: سپلائر کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ اگر وہ ایل سی کی تمام شرائط پوری کرے گا، تو بینک اسے مقررہ تاریخ پر رقم لازمی ادا کرے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح ایل سی کھلوانا جائز ہے ؟
جب کوئی شخص دوسرے ملک سے کوئی چیز درآمد کرنا چاہتا ہےتو دوسرے ملک کا تاجر اس بات کا اطمینان چاہتا ہےکہ جب مطلوبہ سامان خریدار کو بھیجوں گاتو وہ واقعتاً قیمت کی ادائیگی کردے گا، لہذا درآمد کرنے والا بر آمد کرنے والے کو اعتماد دلانے کے لیے بینک سے ایک ضمانت نامہ حاصل کرتا ہے، جس میں بینک بیچنے والے کو اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ یہ چیز فلاں شخص کو فروخت کردی جائےتو قیمت کی ادائیگی کا ذمہ دار میں ہوں گا، اس کو ایل سی کہتے ہیں۔
کبھی ایل سی فل مارجن پر کھلوائی جاتی ہے، یعنی جس میں برآمد کرنے والاایل سی کھلواتے وقت ہی پوری رقم ادا کردیتا ہے، اور کبھی ایل سی زیرو مارجن پرکھلوائی جاتی ہے، یعنی ایل سی کھلواتے وقت رقم کی ادائیگی نہیں کی جاتی، بلکہ بینک درآمد کرنے والے تاجر کو پوری رقم کی ادائیگی کردیتا ہے، اور کبھی ایسے ہوتا ہے کہ برآمد کرنے والا کچھ رقم کی ادئیگی کردیتا ہے، اور باقی رقم کی ادئیگی بینک کرتا ہے، تو جتنی رقم درآمد کرنے والا بینک کو ادا کرتا ہے، وہ رقم کل رقم کے اعتبار سے جتنا فیصد ہوتی ہے اسے اتنے ہی فیصد مارجن پر ایل سی کھلوانا کہتے ہیں۔
صورت مسئولہ میں سائل کو جو ایک صاحب نے ایل سی کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں وہ درست نہیں ہیں، بلکہ جب کوئی شخص کسی بھی بینک میں ایل سی کھلوانے جاتا ہے، اور ابتداءً مکمل رقم نہ ادا کرے، یا کچھ رقم کی ادائیگی کردے تو ایسی صورت میں بینک اس درآمد کرنے والے کی طرف سے برآمد کنندہ کو بقیہ رقم ادا کرتا ہے، جو کہ قرض ہوتی ہے، اور بینک اس قرض کا عوض رقم کی صورت میں برآمد کنندہ سے وصول کرتا ہے، اسی وجہ سے کسی بھی بینک میں زیرو مارجن پر ایل سی کھلوانا شرعاً جائز نہیں ہے۔
ہاں اگر فل مارجن پر ایل سی کھلوائی جائے، اور ایل سی کھلواتے وقت ہی برآمد کنندہ مکمل رقم بینک کو ادا کردیتا ہے، تو یہ صورت شرعاً جائز ہے۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: هم سواء."
(كتاب البیوع، باب الربا، ج: 2، ص: 27، ط: قدیمي)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب."
(كتاب القرض، فصل في شرائط رکن القرض، ج: 7، ص: 395، ط: ایچ ایم سعید)
الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے:
الإعتماد المستندي: تعهد كتابي من المصرف لصالح مورِّد، يتعهد فيه المصرف بدفع ثمن السلع المصدرة لمستورد طالب فتح الإعتماد، متى قدم المورد مستندات السلع والشحن، على أن تكون هذه المستندات مطابقة لشروط الاعتماد ويستعمل في تمويل التجارة الخارجية .
وحكمه حكم خطاب الضمان: إن كان مغطى غطاء كلياً، كان المصرف وكيلاً عن فاتح الإعتماد، وله أن يأخذ عمولة أو أجراً عن وكالته. وإن كان غير مغطى كلياً أو جزئياً، كان المصرف كفيلاً، وفاتح الإعتماد مكفول عنه، فلا يجوز للمصرف أخذ أجر مقابل الكفالة ذاتها، وإنما مقابل الإجراءات والمصاريف الإدارية فقط. وإذا كان الغطاء جزئياً لاستيراد سلعة معينة، فإن البنك يصبح شريكاً لفاتح الإعتماد في الكسب أو الخسارة بنسبة معينة هي 2% مثلاً، وليس كفالة مجردة."
(الفصل العاشر الکفالة، المبحث الخامس رجوع الكفيل على الأصيل، ج: 6، ص: 4181، ط: دار الفکر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802100190
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن