
ہمارے یہاں یہ عام سوال اکثر اسلامی قانون سے متعلق احکامات میں سامنے آتا ہے کہ کیا کسی بینک کو بلڈنگ کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں؟ آج کل کے کچھ دین دار لوگ بینک کے لیے اپنی بلڈنگ کرایہ پر دینے سے احتیاط کرتے ہیں، ان کے نزدیک یہ سودی کاروبار کی معاونت ہے، لیکن کچھ لوگ بدرجۂ خاص قسم کے الفاظ لکھے ہوئے بینکوں مثلاً: حبیب (اسلامی) بینک، المیزان بینک، UBL امین، خیبر بینک وغیرہ کو اپنی بلڈنگ کرایہ پر دینا جائز سمجھتے ہیں۔
آیا اسلامی بینک کاری وغیرہ کے الفاظ اگر کسی بینک پر لکھے ہوئے ہوں تو اس بینک کو بلڈنگ کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں؟ کس بینک کو کرایہ پر بلڈنگ دی جاسکتی ہے؟
واضح رہے کہ مروجہ غیر سودی بینکوں کا طریقِ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے، اور غیر سودی بینک اور روایتی بینک کے بہت سے معاملات درحقیقت ایک جیسے ہیں، لہذا روایتی بینک کی طرح کسی بھی مروجہ غیرسودی بینک کو بھی زمین فروخت کرنا یا کرایہ پر دینا جائز نہیں، یہ گناہ کے کام میں تعاون کے زمرے میں آتا ہے، اس سے بچنا لازم ہے۔
التفسير المظهري میں ہے:
"(وَتَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ) اى على امتثال امر الله تعالى (وَالتَّقْوى) اى الانتهاء عما نهى عنه؛ كى يتقى نفسه عن عذاب الله (وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ) يعنى لا تعاونوا على ارتكاب المنهيات ولا على الظلم."
(سورۃ المائدۃ، الآية: ٢، ٣/ ١٩، ط: رشيدية)
الأصل لمحمد بن الحسن الشيباني ؒ میں ہے:
"وإذا استأجر الرجل الذمي من المسلم بيتا ليبيع فيه الخمر فإن هذا باطل لا يجوز. وليس في شيء من هذا أجر قليل ولا كثير في قول أبي يوسف ومحمد."
(كتاب الإجارات، باب الإجارة الفاسدة، ٤/ ١٧، ط: دار ابن حزم)
مجمع الأنهر میں ہے:
"(ولا تكره إجارة بيت بالسواد) أي بالقرية (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع) معطوف على قوله ليتخذ أي ليباع (فيه الخمر) عند الإمام؛ لأن الإجارة واردة على منفعة البيت ولا معصية فيه وإنما معصيته بفعل المستأجر وهو فعل الفاعل المختار فقطع نسبته منه . . . (وعندهما يكره) أن يؤجر بيتا لشيء من ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الأئمة الثلاثة."
(كتاب الكراهية، فصل في الكسب، ٢/ ٥٢٩، ط: المكتبة الحنيفية)
فقط واللہ تعالى أعلم
فتویٰ نمبر : 144702100854
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن