بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک کی طرف سے حاجی کو ملنے والے بیگ کا حکم


سوال

میں نے حج کی رقم حکومت کی جانب سے مقرر کردہ بینک میں جمع کرا دی ہے، اب حاجی کیمپ  میں مذکورہ بینک بطور ہدیہ حا جی کو ایک بیگ فراہم کرتا ہے وزارت مذہبی امور کے کہنے پر ،یعنی وزارت بینک سے کہتی ہے کہ آپ نے حاجی کو   ایک بیگ  دینا ہے سوال یہ کہ کیا یہ بیگ لینا جائز ہے؟

جواب

سرکاری اسکیم کے تحت حج پر جانے والوں کو  جو   سفری بیگ وغیرہ   ملتے ہیں، اس میں یہ تفصیل ہے کہ :

  1. اگر حج کے پیکیج کی رقم  میں ان اشیاء کی رقم بھی شامل ہو تو ان کے لیے یہ چیزیں استعمال کرنا جائز ہوگا ، چاہے یہ بیگ وغیرہ وزارتِ حج دے،یا بینک ۔
  2.  اگر  حاجیوں سے بیگ وغیرہ کی رقم نہیں لی گئی اور حکومت اپنی طرف سے بطورِ ہدیہ یہ چیزیں حاجیوں کو فراہم کرے تو  حاجیوں کے لیے  یہ چیزیں لینا جائز ہوگا ۔
  3. اگر حاجیوں سے رقم نہیں لی گئی اور بینک اپنی  رقم سے یہ چیزیں لے کر حاجیوں کو دےتو ان اشیاء کا لینا شرعاً جائز نہیں ہوگا ۔

لہذا جس حاجی کو سفری بیگ وغیرہ کی سہولیات مل رہی ہوں تو وہ متعلقہ افراد/ذمہ داران سے پوچھ کر اس کے مطابق عمل کرے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض، كذا في الكنز."

(کتاب الهبة، ج:4، ص:374، ط: دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"اكتسب حراما واشترى به أو بالدراهم المغصوبة شيئا. قال الكرخي: إن نقد قبل البيع تصدق بالربح وإلا لا وهذا قياس وقال أبو بكر كلاهما سواء ولا يطيب له وكذا لو اشترى ولم يقل بهذه الدراهم وأعطى من الدراهم».

(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اهـ وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعا للدرر وغيرها."

(کتاب البیوع، باب المتفرقات، ج :5، ص:235، ط: ایچ ایم سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"أهدي إلٰی رجل شیئًا أو أضافه، إن کان غالب ماله من الحلال، فلابأس إلا أن یعلم بأنه حرام، فإن کان الغالب هو الحرام ینبغي أن لایقبل الهدية."

(کتاب الکراهية، الباب الثاني عشر في الهدایا والضیافات، ج: 5، ص:342، ط: دارالفکر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710101417

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں