بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شعبان 1441ھ- 29 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک کی تنخواہ سے قربانی کرنا


سوال

1- بینک کی تنخواہ سے قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟

2-  بینک کی تنخواہ حلال ہے یا حرام؟

جواب

1۔ بینک کی تنخواہ چوں کہ حلال نہیں، لہذا اس سے قربانی نہ کی جائے، بلکہ حلال مال سے قرباںی کرنا ضروری ہوگا، اگر حلال مال موجود نہ ہو تو کسی حلال آمدنی والے شخص سے قرضہ لے کر قربانی کرلی جائے۔

2۔ بینک کا طریقۂ  تمویل چوں کہ سودی ہے، لہذا بینک میں نہ نوکری حلال ہے اور نہ ہی تنخواہ حلال ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے