بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1448ھ 19 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کے عوض اضافی رقم وصول کرنے کا شرعی حکم


سوال

میں دینی ادارے میں خدمت کر رہا ہوں، ماہانہ تنخواہ بینک اکاؤنٹ میں آتی ہے، اب چوں کہ بینکوں کا وقت بھی مختصر ہوتا ہے اور وہاں رش بھی کافی ہوتا ہے ،  ہم یہ کرتے ہیں کہ ایزی پیسہ والی دکان سے یہ پیسے (تنخواہ) نکلواتے ہیں، لیکن اس میں مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہزار روپے میں بیس روپے کاٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چوں کہ ہم پر انٹرنیٹ کا خرچہ آتا ہے، اسی طرح دکان کا کرایہ ہے، اس لیے ہم یہ لیتے ہیں۔ تو کیا ہزار روپے میں بیس روپے دے کر پیسے نکلوانا جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ ایزی پیسہ اور جاز کیش کے لیے کمپنی دو قسم کے اکاؤنٹس کھولتی ہے، اور ہر اکاؤنٹ کے ذریعے رقم منتقل کرنے کا حکم الگ ہے۔

1- اگردکاندار ریٹیلر اکاؤنٹ   کے ذریعے پیسے نکال کر دیتے ہیں تو اس صورت میں متعلقہ کمپنی کے ضابطے کے مطابق دکاندار کے لیے  گاہک سے مقرر کردہ فیس  لینا شرعاً جائز ہے، طے شدہ فیس سے اضافی رقم وصول کرنا کمپنی کے اصول و ضوابط  کی خلاف ورزی کی بنا پر درست نہیں۔

2- اگر  دکاندار  پرسنل اکاؤنٹ  کے ذریعے رقم نکال کر دیتا ہے تو اس صورت میں دکاندار  کے لیے گاہک سے سروس چارجز لینا درست ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

و أما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع و إن سعى بينهما و باع المالك بنفسه يعتبر العرف و تمامه في شرح الوهبانية."

(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف، جامع الفصولين."

(کتاب البیوع ،فرع :ظهر بعد نقد الصراف أن الدراهم زيوف،ج:4،ص:561،ط:سعید)

و فیه أیضًا:

"قال في التتارخانية: و في الدلال و السمسار يجب أجر المثل، و ما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. و في الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة."

(كتاب الإجارة، ‌‌باب الإجارة الفاسدة، مطلب في أجرة الدلال،ج:6، ص:63، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101631

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں