بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک اکاؤنٹ کے استعمال کی اجازت دینے پر اجرت لینے کا حکم


سوال

میرے پاس ایک انٹرنیشنل اکاؤنٹ ہے جو پاکستان میں نہیں بنتا، اور اگر بنوائیں تو پیسے دے کر بنتا ہے، باہر کے لوگ اس اکاؤنٹ کے ذریعے ہمارے ملک میں پیسے بھیجتے ہیں، ایک شخص میرے اس اکاؤنٹ کی سروس مجھ سے لیتا ہے اور اس کے بدلے میرے ساتھ آنے والی رقم کا فیصد طے کرتا ہے، تو کیا یہ جائز ہے کیوں کہ پہلے میرے اس انٹرنیشنل اکاؤنٹ میں پیسے آتے ہیں پھر ایک اور اکاؤنٹ درمیان میں استعمال ہوتا ہے جس کے ذریعے میں پاکستانی بینک میں پیسے منتقل کرتا ہوں، ڈائریکٹ پاکستانی بینک میں نہیں آتے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے صرف اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کسی کے پیسے نکلوانے کی صورت میں، طے شدہ فیصد کے حساب سے رقم لینا جائز نہیں، کیونکہ یہ کوئی ایسا عمل نہیں ہے جس کے بدلے شرعاً اجرت لی جاسکے، البتہ اگر پیسے نکلواتے وقت اس کے اپنے پیسے کٹتے ہوں تو وہ صرف اسی کے بقدر رقم لے سکتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"‌والأجرة ‌إنما ‌تكون ‌في ‌مقابلة ‌العمل."

(كتاب النكاح، باب المهر، 156/3، ط: سعید)

وفيه أيضا:

"وفي الأشباه ‌لا ‌يجوز ‌الاعتياض ‌عن ‌الحقوق ‌المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف."

(كتاب البيوع، فروع في البيوع، 4/ 518، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100039

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں