
میرے سسر حیات نہیں ہیں، اپنی حیات میں اکثر کہا کرتے تھے کہ میری ساری جائیداد وقف ہے سوائے اس بنگلے کے، جس میں ہم رہائش پذیر تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ اس بنگلے میں بچوں کا حصہ ہے اور باقی ساری جائیداد وقف ہے، میرے سسر کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، ان کے انتقال کو ڈھائی سے تین سال ہو چکے ہیں، مگر اب تک وراثت کی کوئی تقسیم نہیں ہوئی، انہوں نے بیٹیوں کو جہیز میں جائیداد دی تھی، مگر بیٹوں کے لیے ایسا کوئی انتظام نہیں کیا گیا، میں خود اپنے میکے میں رہ رہی ہوں، کیونکہ سسر کے انتقال کے بعد اخراجات اٹھانے کے کوئی وسائل نہیں تھے، میں ڈھائی تین سال سےمیرے شوہر کے ساتھ اپنے میکے میں رہ رہی ہوں، اور جائیداد کا کوئی بٹوارہ ابھی تک نہیں ہوا، یعنی: وارثوں کے اختلاف کی وجہ سے وراثت تقسیم نہ ہو سکی، ایک اختلاف یہ بھی ہے کہ جائیداد وقف میں جائے گی یا اس کی تقسیم ہوگی؟ جیسا کہ حکم ہے؛ کیونکہ میرے سسر جو اپنی حیات میں کہا کرتے تھے کہ میری ساری جائیداد وقف ہے سوائے بنگلے کے، تو انہوں نے اس کے لیے کوئی وصیت کوئی پیپر کوئی دستاویز نہیں چھوڑا، جس میں یہ ثبوت ملتا ہو کہ یہ سب وقف کرنا چاہیے، یعنی: یہ ساری بات ان کی زبانی کلامی تھی، جس کا ذکر وہ اکثر و بیشتر رشتہ داروں کے سامنے بھی کرتے تھے، مگر انہوں نے اپنی حیات میں ایسا کوئی پیپر تیار نہیں کیا، نہ کوئی ایسی وصیت تیار کی، آپ ہماری راہ نمائی فرمائیں، کیا کرنا چاہیے؟
واضح رہے کہ وقف کے درست ہونے کی منجملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جس چیز کو وقف کیا جائے اس سے اپنا قبضہ ختم کر کے جہتِ موقوفہ میں دے دیا جائے، اور سوال میں جو تفصیل درج کی گئی اس کی رو سے آپ کے سسر نے صرف زبانی کلامی بنگلے کے علاوہ دیگر چیزوں کے بارے میں وقف کرنے کا کہا تھا، اس کے لیے عملی اقدام کوئی نہ کیا تھا؛ اس لیے یہ اشیاء بدستور آپ کے سسر کی ملکیت میں باقی رہیں، پھر ان کے انتقال کے بعد یہ اشیاء ان کے ورثاء میں تقسیم ہو ں گی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(ولا يتم) الوقف (حتى يقبض) لم يقل للمتولي لأن تسليم كل شيء بما يليق به ففي المسجد بالإفراز وفي غيره بنصب المتولي وبتسليمه إياه ابن كمال (ويفرز)."
(کتاب الوقف، جلد : 4، صفحہ : 348، طبع : سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101817
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن