
بازار کو حدیث میں ناپسندیدہ جگہ کیوں فرمایا گیا ہے؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک حدیث مبارکہ میں مساجد کو پسندیدہ ترین جگہ اور بازاروں کو ناپسندیدہ ترین جگہ فرمایا گیا ہے، شارحین نے اس کی مختلف وجوہات بیان فرمائی ہیں، چوں کہ بازار کا مقصد بنیادی طور پر طلب دنیا ہے جو کہ اپنی ذات میں کوئی ممدوح امر نہیں، نیز بازار عموما برائیوں کا منبع ہوتے ہیں بایں طور کہ جھوٹ، جھوٹی قسمیں، اللہ تعالی کی یاد اور ذکر سے تغافل اور دنیا میں انہماک پایا جاتا ہے، اور مساجد اس کے برعکس ہوتی ہیں، اسی لیے بازاروں کو مقام ذم میں ذکر کیا گیا۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة رضي اللہ عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"أحب البلاد إلى الله مساجدها. وأبغض البلاد إلى الله أسواقها".
(کتاب الصلاۃ، باب فضل الجلوس فى مصلاه بعد الصبح، ج: 1، ص: 464، ط: دار إحیاء التراث العربي)
ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک (انسانی) آبادیوں کا پسندیدہ ترین حصہ ان کی مسجدیں ہیں، اور اللہ کے ہاں (انسانی) آبادیوں کا سب سے ناپسندیدہ حصہ ان کے بازار ہیں۔“
إکمال المعلم بفوائد مسلم میں ہے:
"وقوله: " وأبغض البلاد إلى الله أسواقها "؛ لأنها مخصوصة بطلب الدنيا ومخادعة العباد والإعراض عن ذكر الله، ومظانِّ الأيمان الفاجرة، وإذا كان معنى الحبِّ من الله والبغض عائداً إلى إرادته الخير أو الشر أو فعله ذلك بمن أسعده الله وأشقاه، استبان لك أن المساجد مواضع نزول رحمة الله وفضله، والأسواق على الضد منها."
(کتاب الصلاۃ،باب فضل الجلوس فى مصلاه بعد الصبح، ج: 2، ص: 647، ط: دار الوفاء)
المفہم للقرطبی میں ہے:
"وإنما كانت الأسواق أبغض البلاد إلى الله لأنها مخصوصة بطلب الدنيا ومطالب العباد والإعراض عن ذكر الله، ولأنها مكان الأيمان الفاجرة، وهي معركة الشيطان وبها يركز رايته."
(کتاب الصلاۃ، باب المشي إلی الصلاة، ج: 2، ص: 295، ط: دار ابن کثیر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101207
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن