بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بالوں کے سنوارنے میں غیروں کے طور طریقے اختیار کرنے کا حکم


سوال

 اگر میں بالوں میں سٹائلش کنگھی دوں ؟

جواب

اگر  آپ کی مراد سٹائلش کنگھی دینے سے  سر کے بالوں میں کنگھی کے ذریعے انگریزی طرز پر بالوں کو  بنانا اور سنوارنا ہے تو یہ جائز نہیں ہے،بلکہ  صرف کنگھے کے ذریعے بالوں  سنوار  کر اس میں بیچ کی مانگ نکالنا یا پورے سر کے بالوں کو پیچھے کی طرف لے جانا یہ  سنت ہے ۔   بال بنانے کے مروجہ انگریزی طور طریقے اختیار کرنے کی بجائے سنت طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔مروجہ انگریزی طریقے غیروں کی مشابہت کی وجہ سے ممنوع ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے:

"عن ابن عباس رضي الله عنهما، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسدل شعره، وكان المشركون يفرقون رءوسهم، فكان أهل الكتاب يسدلون رءوسهم، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم يؤمر فيه بشيء، ثم فرق رسول الله صلى الله عليه وسلم رأسه."

(کتاب بدء الخلق، باب المناقب،باب صفہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم،ج:4، ص:500، ط:دار التاصیل)

 مولانامحمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ  نےایک سوال کے جواب میں تحریر فرمایا ہے :

’’ٹیڑھی مانگ نکالنا اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے، مسلمانوں میں اس کا رواج گم راہ قوموں کی تقلید سے ہوا ہے، اس لیے یہ واجب الترک ہے‘‘۔

(آپ کے مسائل اور ان کا حل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101649

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں