بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بالغ لڑکی کے گناہ کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟


سوال

1- قرآن کہتا ہے کہ عورتیں گھر میں رہیں تو اس آیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا قریبی اور محرم رشتے داروں یا کسی مریض کی عیادت کے لیے جانا یا بوڑھی نانی یا دادی کی خدمت کے لیے ہفتہ یا ماہانہ بھر ٹھہر جانا کیسا ہے؟

 2- اگر بالغ لڑکی گناہ کرے تو وہ کس پر ہوگا اسی پر یا والدین پر ؟کہتے ہیں کہ جب تک لڑکی والدین کے گھر پرہوتی ہے تو وہ جو کچھ کرتی ہے اس کا گناہ والدین کو ہوگا اور شادی کے بعد شوہر کو ہوگا۔

جواب

1۔آیتِ کریمہ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى میں عوتوں کو بلا ضرورت اور بغیر شرعی پردہ کے گھر سے نکلنے اور گھومنے پھر نے سے منع کیا گیا ہے ،البتہ ضرورت کے تحت شرعی پردہ کے ساتھ گھر سے باہر جانے کی شرعاً اجازت ہے، گھر  سے  باہر  نکلنے  سے  مراد   مسافت سفر سے کم مسافت میں فتنہ کا اندیشہ نہ ہونے کی صورت میں عورت کے لیے محرم کے بغیر نکلنا جائز ہے اور اگر مسافت 48  میل یا اس سے زیادہ ہے یا کم ہونے کی صورت میں  فتنہ کا اندیشہ ہے تو  عورت کے  لیے  بغیر  محرم کے  سفر  کرنا  جائز  نہیں ہے ۔

لہذا عورت کے لیے مذکورہ شرائط کی رعایت کرتے ہوئے  اپنے اقرباء کی زیارت کے لئے جا نا یا مریض کی عیادت کرنا جائز ہے،اسی طرح  نانی یا  دادی  کی خدمت کے لئے ان ہاں جانا اورکسی شرعی ممانعت   کے نہ ہونے کی صورت میں  ہفتہ یا زیادہ مدت کے لئے و ہاں ٹھہرنا بھی  جائز ہے،البتہ اگر عورت شادی شدہ ہو تو شوہر کی اجازت ضروری ہے،نیز وہاں کوئی نامحرم موجود ہو  تو  مکمل پردے  کا  خیال کرتے  ہوئے   ٹھہرنا  جائز  ہوگا، اور  اگر  پردے  کا  اہتمام ممکن نہ ہو  تو  وہاں ٹھہرنا  جائز  نہیں ہوگا۔

2۔صورت مسئولہ میں یہ بات کہ شادی سےپہلےلڑکی کےگناہ کی ذمہ داری والدپراورشادی کےبعدشوہرپرہےدرست نہیں ہے،اس لئےکہ  ہر آدمی اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے ،جوگناہ کرے گا،سزا بھی وہی پائے گاجیسا کہ ارشادی باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ﴾ [الأنعام: 164]

ترجمہ: جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اس پر رہتا ہے اور کوئی دوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا ۔(ازبیان القرآن)

البتہ اگر بلوغت کے بعد قدرت کے باوجود والدین نے نکاح نہ کیا ، اور اولاد بدکاری  میں مبتلا ہوگئی  تو اس کا گناہ والدین کو ہو گا ،

اسی طرح  اگر والدین نے اپنی اولاد کو دین سکھانے، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں کوتاہی کی، اور اسی کوتاہی کے نتیجے میں وہ گناہوں میں مبتلا ہو گئی، تو اولاد اپنے گناہ کی خود ذمہ دار ہوگی اور والدین اپنی کوتاہی کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے،لیکن اگر والدین نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، دینی تعلیم دی، نصیحت کی اور برے کام سے روکا، مگر پھربھی اولادگناہ کرے، تو اس کے گناہ کا وبال والدین پر نہ ہوگا بلکہ وہ خود اس کی ذمہ دار ہوگی۔

اسی طرح شادی کے بعد شوہر پر بھی بیوی کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی ذمہ داری ہے، اگر شوہر اس میں کوتاہی کرے تو وہ اپنی کوتاہی کی وجہ سے گناہ گار ہوگا، لیکن بیوی کے گناہ کا بوجھ شوہر پر منتقل نہیں ہوگا۔

 أحکام القرآن للفقیہ المفسر العلامۃ محمد شفیع رحمہ اللّٰہ میں ہے:

"قال تعالی : {وقرن في بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاهلیة الأولی}  [الأحزاب :۳۳] فدلت الآیة علی أن الأصل في حقهن الحجاب بالبیوت والقرار بها ، ولکن یستثنی منه مواضع الضرورة فیکتفی فیها الحجاب بالبراقع والجلابیب ... فعلم أن حکم الآیة قرارهن في البیوت إلا لمواضع الضرورة الدینیة کالحج والعمرة بالنص، أو الدنیویة کعیادة قرابتها وزیارتهم أو احتیاج إلی النفقة وأمثالها بالقیاس، نعم! لا تخرج عند الضرورة أیضًا متبرجةّ بزینة تبرج الجاهلیة الأولی، بل في ثیاب بذلة متسترة بالبرقع أو الجلباب، غیر متعطرة ولامتزاحمة في جموع الرجال؛ فلا یجوز لهن الخروج من بیوتهن إلا عند الضرورة بقدر الضرورة مع اهتمام التستر والاحتجاب کل الاهتمام، وما سوی ذلك فمحظور ممنوع."

 (سورة الأحزاب، آیة: 33، ج: 3، ص: 317 تا 319، ط: مکتبة تهانوی)

أحكام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقوله تعالى يا أيها الذين آمنوا قوا أنفسكم وأهليكم ناراروي عن علي في قوله قوا أنفسكم وأهليكم قال علموا أنفسكم وأهليكم الخيروقال الحسن تعلمهم وتأمرهم وتنهاهم قال أبو بكر وهذا يدل على أن علينا تعليم أولادنا وأهلينا الدين والخير وما لا يستغنى عنه من الآداب وهو مثل قوله تعالى وأمر أهلك بالصلاة واصطبر عليها ونحو قوله تعالى للنبي صلى الله عليه وسلم وأنذر عشيرتك الأقربين ويدل على أن للأقرب فالأقرب منا مزية في لزومنا تعليمهم وأمرهم بطاعة الله تعالى ويشهد له قول النبي صلى الله عليه وسلم كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته ومعلوم أن الراعي كما عليه حفظ من استرعي وحمايته والتماس مصالحه فكذلك عليه تأديبه وتعليمه وقال صلى الله عليه وسلم فالرجل راع على أهله وهو مسئول عنهم والأمير راع على رعيته وهو مسئول عنهم ."

(سورةالتحریم، آية: ج: 5، ص: 364، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح  میں ہے : 

"وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ولد له ولد) أي: ذكرا أو أنثى (فليحسن) بالتخفيف والتشديد (اسمه وأدبه) أي: معرفة أدبه الشرعي (وإذا بلغ) وفي نسخة صحيحة بالفاء (فليزوجه) وفي معناه التسري (إن بلغ) أي: وهو فقير (ولم يزوجه) أي: الأب وهو قادر (فأصاب) أي: الولد (إثما) أي: من الزنا ومقدماته (فإنما إثمه على أبيه) أي: جزاء الإثم عليه لتقصيره وهو محمول على الزجر والتهديد للمبالغة والتأكيد، قال الطيبي رحمه الله: أي جزاء الإثم عليه حقيقية ودل هنا الحصر على أن لا إثم على الولد مبالغة لأنه لم يتسبب لما يتفادى ولده من أصابه الإثم."

(کتاب النکاح،باب الولی فی النکاح ،ج :5، ص :2064،ط :دار الفکر)

فتح القدير میں ہے: 

"(قوله لأنه يباح لها الخروج إلى ما دون مدة السفر بغير محرم) يعني إذا كان لحاجة."

(‌‌كتاب الحج، ج: 2، ص: 421، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي)

البحر الرائق میں ہے:

"يجوز للرجل أن يأذن لها بالخروج إلى سبعة مواضع زيارة الأبوين وعيادتهما أو أحدهما وزيارة المحارم."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، الزوجية، ج: 4، ص: 212، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100713

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں