بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بالغ لڑکی کا پڑوسیوں کے گھر جانے کا حکم


سوال

1- ایک بالغ لڑکی کا ماں کے بغیر پڑوسیوں کے گھر جانا کیسا ہے؟اور اگر پڑوس میں کسی مرد کا انتقال ہو جائے تو کیا میت کو دیکھنے جا سکتی ہے؟ ہم گھر سے بہت کم نکلتے ہیں، زیادہ نہیں نکلتےیہاں وہاں ،لیکن کچھ پڑوسنیں باتیں بناتی ہیں کہ ان کے گھر کی بیٹیوں کو ہم نے نہیں دیکھا، نہ دروازے پر آتی ہیں ،یہ تو ٹھیک ہے، لیکن آس پاس پڑوس سے تو بات چیت کرنی چاہیے۔ تو کیا ہمارا جانا ٹھیک ہوگا؟

2- کیا بالغ لڑکی تبلیغی جماعت میں جاسکتی ہیں ،کہتے ہیں کہ خواتین بھی جماعت میں جاتی ہیں ،جیسے مرد جاتے ہیں  چلہ کے لیے، ویسے ہی خواتین بھی جا سکتی ہیں۔ کیا خواتین کا جماعت میں جانا درست ہے،جبکہ قرآن کہتا ہے کہ عورتیں اپنے گھروں میں ٹک کر رہیں چار دیواری کے اندر؟

جواب

   قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا، اور   اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے  سے منع کیا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت چھپانے کی چیز ہے،  جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تانک جھانک میں لگ جاتا ہے۔ اس لیے عام حالات  میں بلا ضرورت عورت کا گھر سے نکلنا درست نہیں ہے، خاص طور پر موجودہ ماحول میں عورت کے لیے گھر سے  باہر نکلنے  میں بہت سے  مفاسد وخرابیاں  اور احکامِ شرعیہ کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، فقہائے کرام نے شرعی وطبعی ضرورتوں کے لیے (جب کہ ضرورت ایسی ہو کہ بغیر باہر نکلے مصیبت ٹلنے یا کام پورا ہونے کی کوئی سبیل نہ ہو) عورت کو  محرم کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے، لیکن وہ بھی اس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ عورت مکمل پردے کی حالت میں ہو، اور چادر یا برقع بھی ایسا ہو جو پورے بدن کو چھپاتا ہو، دیدہ زیب ونقش ونگار والا، زرق برق، نظروں کو خِیرہ کردینے والا نہ ہو۔

1-لہذا صورت مسئولہ میں اگر پڑوسیوں کے گھر جانے میں بے پردگی اور فتنے  کا اندیشہ نہ ہو،تو خیر خبر لینے  یاخوشی غمی میں بالغ لڑکی  پڑوسیوں کے گھر جاسکتی ہے۔لیکن غیر محرم میت مرد کو نہیں دیکھ سکتی،دیکھنے کے لئے مت جائے۔

2-عورت کا مروجہ  تبلیغی جماعت میں     جانا  جائز نہیں ہے،کیونکہ اسلام کے ابتدائی دور میں عورتوں میں دین کی دعوت وتبلیغ کی ضرورت موجودہ  دور  کی ضرورت سے زیادہ تھی، اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابۂ کرام ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں ہے؛لہذا موجودہ زمانہ میں بھی درست نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

ﵟوَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَاهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰۖ ﵞ [الأحزاب: 33]          

ترجمہ: اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکاۃ دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانو ۔ (بیان القرآن)

سنن ترمذی میں ہے:

"عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "المرأة عورة، فإذا خرجت، استشرفها الشيطان."

"ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت پردہ کی چیز ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو اس کو شیطان جھانکتا ہے"

 (ابواب الرضاع، ج:3، ص: 30، ط:دار الرسالة العالمية)

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"وأخرج البزار عن أنس قال جئن النساء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلن: يا رسول الله ذهب الرجال بالفضل والجهاد في سبيل الله تعالى فهل لنا عمل ندرك به فضل المجاهدين في سبيل الله تعالى فقال عليه الصلاة والسلام: «من قعدت منكن في بيتها فإنها تدرك عمل المجاهدين في سبيل الله تعالى».

وقد يحرم عليهن الخروج بل قد يكون كبيرة كخروجهن لزيارة القبور إذا عظمت مفسدته وخروجهن ولو إلى المسجد وقد استعطرن وتزين إذا تحققت الفتنة أما إذا ظنت فهو حرام غير كبيرة."

[سورة الأحزاب، ج:11، ص:187، ط:دار الكتب العلمية]

ردالمحتار علی الدر المختار میں ہے:

"وحيث أبحنا لها الخروج فبشرط عدم الزينة في الكل، وتغيير الهيئة إلى ما لا يكون داعية إلى نظر الرجال واستمالتهم."

(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:146، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144709100001

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں