
(1) سر کے بالوں کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اگر بال کٹوانے ہوں تو کس تو اس کی کیا جائز صورت ہے جیسا کہ آج کل فیشن ہے کناروں سے بال کٹوانے کا جس کے الگ الگ نام ہیں تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(2)بڑے بال (زلفیں )کیا حکم اور اس کی کتنی حدشریعت نے متعین کی ہے؟
(3)اسی طرح حلق کرانے کا کیا حکم ہے کیا یہ سنت ہے ؟خاص طور پر ایسے معاشرے میں جہاں حلق کرانے والے کا مذاق اڑایا جاتا ہو؟
(4) بالوں کو درست (سیٹ)کرنے کا نبوی طریقہ کیا ہے یعنی بالوں کی مانگ کس طرح نکالی جائے؟
(5) اور کیا کانوں کے پاس سے جو بال صاف کیے جاتے ہیں جسے قلمیں بنانا کہتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟ اسی طرح داڑھی میں خط بنانا اس کی کتنی گنجائش ہے برائے کرم بالوں کے متعلق تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔
(1)سر کے بالوں کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ یا تو سر کے پورے بال رکھے جائیں یا پورے کاٹے جائیں، سر کے کچھ بال کاٹنا اور کچھ چھوڑدینا منع ہے:جیسے آج کل رواج بن گیا ہے کہ کناروں سے بال کاٹ دیتے ہیں، اور درمیان والے بال چھوڑ دیتے ہیں، اسے حدیث میں "قزع" سے تعبیر کیا گیا ہے، اور "قزع" کی مختلف صورتیں ہیں،جس کا حاصل یہی ہے کہ سر کے بال کہیں سے کاٹے جائیں اور کہیں سے چھوڑ دیے جائیں۔اس طریقے پر بال کاٹنا شرعاً جائز نہیں ہے۔(1)
(2) بڑی زلفیں رکھنا سنت ہے، اگر کوئی مرد بڑی زلفیں رکھنا چاہتاہے تو زلفیں رکھنے کے مسنون تین طریقے ہیں:(1)کانوں کی لو تک۔(2) کانوں کی لو اور کاندھوں کے درمیان تک۔ (3)کاندھوں تک ۔
اور یہ تینوں صورتیں نبی کریم ﷺسے مختلف احوال میں ثابت ہیں؛ لہذا اگر کوئی شخص بال بڑھائے اور ان تین طریقوں میں سے کسی طریقہ کے مطابق بال رکھ لیتا ہے تو وہ سنت پر عمل پیرا ہے۔(2)
(3) حلق کرانا سنت ہے، کسی مسلمان کا مذاق اڑانا سخت گناہ ہے۔ اور سنت کا مذاق اڑانا اور زیادہ گناہ ہے، اور ایمان کے لیے بھی خطرہ کا باعث ہے۔(1)
(4) بالوں میں مانگ نکالنے کے متعلق شریعتِ مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ سر کے بیچ سے مانگ نکالیں یا پورے سر کے بال مکمل طور پر پیچھے کی طرف لے جائے، دائیں یابائیں جانب سے ٹیڑھی مانگ نکالنا جیساکہ آج کل رواج بن چکا ہے، یہ طریقہ غیروں کی مشابہت کی وجہ سے ممنوع ہے۔(3)
(5) کان کے اطراف کے بال جو کان پر لگ رہے ہوں انہیں برابر کرنے کے لیے اطراف سے معمولی بال کاٹ لینا جیسا کہ عام طور پر اس کا معمول ہے کہ سر کے بالوں کو متعین کرنے اور اس کو دوسرے سے جدا کرنے کے لیے کان کے اوپر بلیڈ لگاتے ہیں تو اس کی گنجائش ہے، تاہم یہ خیال رہے کہ زیادہ اوپر سے بلیڈ نہ لگایا جائے ورنہ ”قزع“ میں داخل ہوگا،اسی طرح کانوں کے پاس جہاں سے جبڑے کی ہڈی شروع ہوتی ہے یہاں سے داڑھی کی ابتدا ہےاور پورا جبڑا داڑھی کی حد ہے، ٹھوڑی اور جبڑے کے علاوہ رخسار اور گردن کے بالوں کو صاف کرنا اور خط بنوانا جائز ہے ۔(4)
(1) بذل المجھود میں ہے:
"عن ابن عمر: أن النبي - صلى الله عليه وسلم - نهى عن القزع) ثم فسر ذلك (وهو أن يحلق رأس الصبي، ويترك له) من شعره (ذؤابة). قلت: وليس هذا مختصا بالصبي، بل إذا فعله كبير يكره له ذلك، فذكر الصبي باعتبار العادة الغالبة."
(كتاب الترجل، باب في الصبي له ذؤابة، ج:12، ص:220، ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وفي روضه الزندويستي أن السنة في شعر الرأس إما الفرق وإما الحلق وذكر الطحطاوي الحلق سنة ونسب ذلك إلى العلماء الثلاثة كذا في التتارخانية.يستحب حلق الرأس في كل جمعة كذا في الغرائب....يكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعا مقدار ثلاثة أصابع كذا في الغرائب."
(كتاب الكراهية،الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها، ج:5، ص:357، ط:رشیدیة)
بہشتی گوہر میں ہے:
"پورے سر پر بال رکھنا نرمہ گوش تک یا کسی قدر اس سے نیچے سنت ہے اور اگر سر منڈائے تو پورا منڈا دینا سنت ہے اور کتروانا بھی درست ہے، مگر سب کتروانا اور آگے کی جانب کسی قدر بڑے رکھنا جو آج کل فیشن ہے جائز نہیں، اور اسی طرح کچھ حصہ منڈوانا کچھ رہنے دینا درست نہیں ۔"
(بالوں کے متعلق احکام، ص:180، ط:مکتبہ البشری)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
"سنت یہ ہے کہ پورے سر پربال رکھے جائیں یاسب کے سب منڈا دئیے جائیں یا مساوی طور پر کٹوادئیے جائیں،کچھ حصہ منڈانا اور کچھ حصہ میں بال رکھنا، یا چھوٹے بڑے اتار چڑھاؤ بال رکھنا جو آج کل فیشن ہے اور انگریزی بال سے موسوم ہے یہ خلاف شرع ہے، نصاری، فساق اور فجار کی ہیئت کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے جوممنوع ہے۔"
(کتاب الحظر والاباحۃ،ج:10،ص:114، ط: دار الاشاعت)
(2) فتح الباری میں ہے:
"قوله: بعيد ما بين المنكبين أي عريض أعلى الظهر ووقع في حديث أبي هريرة عند بن سعد رحب الصدر قوله له شعر يبلغ شحمة أذنه في رواية الكشميهني أذنيه بالتثنية وفي رواية الإسماعيلي تكاد جمته تصيب شحمة أذنيه قوله وقال يوسف بن أبي إسحاق هو يوسف بن إسحاق بن أبي إسحاق نسبه إلى جده قوله إلى منكبيه أي زاد في روايته عن جده أبي إسحاق عن البراء في هذا الحديث له شعر يبلغ شحمة أذنيه إلى منكبيه وطريق يوسف هذه أوردها المصنف قبل هذا بحديث لكنه اختصرها قال بن التين تبعا للداودي قوله يبلغ شحمة أذنيه مغاير لقوله إلى منكبيه وأجيب بأن المراد أن معظم شعره كان عند شحمة أذنه وما استرسل منه متصل إلى المنكب أو يحمل على حالتين وقد وقع نظير ذلك في حديث أنس عند مسلم من رواية قتادة عنه أن شعره كان بين أذنيه وعاتقه وفي حديث حميد عنه إلى أنصاف أذنيه ومثله عند الترمذي من رواية ثابت عنه وعند بن سعد من رواية حماد عن ثابت عنه لا يجاوز شعره أذنيه وهو محمول على ما قدمته أو على أحوال متغايرة وروى أبو داود من طريق هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت كان شعر رسول الله صلى الله عليه و سلم فوق الوفرة ودون الجمة وفي حديث هند بن أبي هالة في صفة رسول الله صلى الله عليه و سلم عند الترمذي وغيره فلا يجاوز شعره شحمة أذنيه إذا هو وفره أي جعله وفرة فهذا القيد يؤيد الجمع المتقدم وروى أبو داود والترمذي من حديث أم هانئ قالت رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وله أربع غدائر ورجاله ثقات الحديث التاسع حديث البراء أيضًا."
(كتاب المناقب، باب صفة النبي صلي الله عليه وسلم، ج:6، ص:572، ط: دار المعرفة)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"(وكان له) : أي لرأسه الشريف (شعر) : أي نازل (فوق الجمة) : بضم الجيم وتشديد الميم ما سقط من المنكبين (ودون الوفرة) : بفتح الواو وسكون الفاء بعده راء ما وصل إلى شحمة الأذن، كذا في جامع الأصول والنهاية وشرح السنة، وهذا بظاهره يدل على أن شعره - صلى الله عليه وسلم - كان أمرا متوسطا بين الجمة والوفرة، وليس بجمة ولا وفرة إذ معنى فوق الجمة أن شعره لم يصل إلى محل الجمة وهو المنكب، ومعنى (دون الوفرة) أن شعره كان أنزل من شحمة الأذن، لكن جاء في بعض الروايات «أنه - صلى الله عليه وسلم - كان عظيم الجمة إلى شحمة أذنيه» ، وهذا ظاهر أن شعره كان جمة، وعلى أن جمته مع عظمها إلى أذنيه، ولعل ذلك باعتبار اختلاف أحواله اهـ. (رواه الترمذي) : أي في جامعه، وقال: حديث حسن غريب صحيح من هذا الوجه. ورواه في شمائله أيضا بهذا اللفظ."
(كتاب اللباس، باب الترجل، ج:7، ص:8232، ط: دار الفكر)
البحر الرائق میں ہے:
"واختلف في تصغيره شعر النبي إلا إذا أراد الإهانة فيكفر أما إذا أراد التعظيم فلا...وبقوله أنا لا أحبه حين قيل له إن النبي كان يحب القرع وقيل إن كان على وجه الإهانة وبقولها نعم حين قال لها لو شهد عندك الأنبياء والملائكة لا تصدقيهم حين قالت له لا تكذب وباستخفافه بسنة من السنن."
( كتاب السير، باب أحكام المرتدين، ج:5، ص:132، ط: دارالكتاب الإسلامي)
(3)صحيح مسلم میں ہے:
عن ابن عباس قال: « كان أهل الكتاب يسدلون أشعارهم، وكان المشركون يفرقون رءوسهم، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم يؤمر به، فسدل رسول الله صلى الله عليه وسلم ناصيته، ثم فرق بعد."
(كتاب الفضائل،باب في سدل النبي صلى الله عليه وسلم شعره وفرقه، ج:7، ص:83، ط:دار الطباعة العامرة - تركيا)
(4)البحر الرائق میں ہے:
"وفي شرح الإرشاد اللحية الشعر النابت بمجتمع اللحيين والعارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض."
(كتاب الطهارة، ج:1، ص:16، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101561
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن