
کیا ایک آنکھ کمزور بصارت والے بکرے کی قربانی ہوسکتی ہے؟آنکھ بالکل ٹھیک ہے کوئی زخم یاکانا نہیں،صرف نظر تھوڑی سی کمزور ہے، عام دیکھنے سے بھی پتہ نہیں چلتا کہ اس نظر کمزور ہے۔
اگر قربانی کے جانور کی ایک آنکھ کی بینائی اتنی کمزور ہے کہ ایک تہائی یا اس سے زیادہ چلی گئی ہے تو اس کی قربانی درست نہیں ہے اوراگر ایک تہائی سے کم گئی ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔
نظر کی کمزوری مقدار کے جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ جانور کو ایک دو دن بھوکا رکھا جائے ،پھر جو آنکھ کمزور ہے اس کو باندھ دیا جائے اور جانور کا چارہ آہستہ آہستہ اس کے قریب کیا جائے ،جس جگہ جانور چارہ دیکھ لے وہاں نشان لگادیا جائے،اس کے بعد یہ آنکھ کھول دی جائے اور صحیح آنکھ کو باندھ دیا جائے،دوبارہ چارہ آہستہ آہستہ اس کے قریب لایا جائے ،جہاں جانور چارہ دیکھ لے اس جگہ پر نشان لگادیا جائے ،اب دونوں نشانات کے درمیان حساب لگایا جائے کہ کتنا فرق ہے،اگر ایک تہائی فرق ہے تو مطلب ایک تہائی بینائی کمزور ہے تو قربانی ناجائز ہوگی ،اگر ایک تہائی سے کم فرق ہے تو مطلب ایک تہائی سے کم بینائی کمزور ہے تو قربانی جائز ہوگی۔
وفي الفتاوى العالمكيرية:
"ولو ذهب بعض هذه الأعضاء دون بعض من الأذن والألية والذنب والعين ذكر في الجامع الصغير إن كان الذاهب كثيرا يمنع جواز التضحية، وإن كان يسيرا لا يمنع، واختلف أصحابنا بين القليل والكثير فعن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أربع روايات، وروى محمد - رحمه الله تعالى - عنه في الأصل وفي الجامع أنه إذا كان ذهب الثلث أو أقل جاز، وإن كان أكثر لا يجوز، والصحيح أن الثلث وما دونه قليل وما زاد عليه كثير، وعليه الفتوى، كذا في فتاوى قاضي خان.
وإنما يعرف ذهاب قدر النصف أو الثلث من العين بأن تشد العين المعيبة بعد أن لا تعتلف الشاة يوما أو يومين، ثم يقرب العلف إليها قليلا قليلا، فإذا رأته من موضع أعلم ذلك الموضع، ثم تشد عينها الصحيحة ويقرب العلف إلى الشاة قليلا قليلا حتى إذا رأته من مكان أعلم ذلك المكان، ثم يقدر ما بين العلامة الأولى والثانية من المسافة، فإن كانت المسافة بينهما الثلث فقد ذهب الثلث وبقي الثلثان، وإن كان نصفا فقد ذهب النصف وبقي النصف، كذا في الكافي."
(كتاب الأضحية،الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب،5/ 298،ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611102794
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن