
زید نے بکر کو بکری کا بچہ دے کر کہا کہ اس کی دیکھ بھال کرو جب بڑا ہو جائے تو آدھا تیرا آدھا میرا کیا شریعت میں یہ صورت جائز ہے؟
مذکورہ صورت شرعا درست نہیں ہے،اگر ایسا کرلیا تو بکری اور اس کے تمام منافع (دودھ ،بچے وغیرہ ) اصل مالک کے ہوں گے اور پالنے والے کو اجرت مثل دی جائے گی، یعنی عام طورپر بکری کے چارہ وغیرہ کے علاوہ بکری کو پالنے اور رکھنے کی جواجرت بنتی ہے، پالنے والااس اجرت کا مستحق ہوگا۔ البتہ یہ دونوں جس علاقہ میں رہتے ہوں اس علاقہ میں اگر اس قسم کا معاملہ کرنے کا رواج اور عرف ہو تو ایسی صورت میں اس قسم کا معاملہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما."
(کتاب الاجارۃ ،الباب الخامس عشر فی بیان ما یجوز من الاجارۃ ومالا یجوز،ج:4،ص:445،دارالفکر)
امدادالفتاوی میں ہے :
"پس حنفیہ کے قواعد کی بناء پر یہ عقد ناجائز ہے کما نقل فی السوال عن العالمگیریۃ،لیکن بناء بر نقل بعض اصحاب امام احمد کے نزدیک اس میں جواز کی گنجائش ہے، پس تحرز احوط ہے اور جہاں ابتلائے شدید ہو تو توسع کیا جاسکتا ہے ."
(کتاب الاجارۃ،ج:3،ص:343،دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100734
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن