بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بکرے کی اوجھڑی کھانے کا حکم


سوال

کیا بکرے یا گائے کی اوجھڑی کھانا مکروہ ہے یا حلال؟

جواب

بکرے کی اوجھڑی کھانا جائز ہے، البتہ خوب  اچھی طرح سے پاک و صاف کرنا ضروری ہے۔

’’امداد الفتاوی‘‘  میں ہے:

’’اوجھڑی کی حلت   اس لیے ہے کہ اس میں کوئی وجہ حرمت کی نہیں، فقہاء نے اشیائے حرام کو شمار کردیا ہے، یہ ان کے علاوہ ہے، یہ شمار "درمختار"  کے مسائل شتٰی میں مذکور ہے:

"والغدة، والخصیة والمثانة، والمرارة، والدم المسفوح، والذکر. اهـ ". (4/104)

’’فتاوی رحیمیہ‘‘  میں ہے:

’’فقہاء نے جانور کی سات چیزوں کو حرام قراردیا ہے، ان سات چیزوں میں اوجھڑی شامل نہیں ہے، لہذا اسے حلال کہا جائے گا،  جو  اِسے حرام قرار دیتے ہیں وہ دلیل پیش کریں‘‘۔

(10/81، ط: دارلاشاعت)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112201290

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں