
ورثاء ميں چار بیٹے ، چار بیٹیاں اور ایک بیوہ ہے، تركہ ميں بینک میں موجود کیش، دو مکان رہائشی، ایک چلتی ہوئی پرچون کی دکان اور ایک پلاٹ ہے؟ تقسيم كرنے كا شرعی طريقہ بتائيں۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے کل ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ کل ترکہ میں سے سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ، اگر ان پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی سے نافذکرنے کے بعد ، باقی کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کو 96حصوں میں تقسیم کر کے بیوہ کو 12حصے، ہر بیٹے کو 14حصے اور ہر بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت 8/ 96
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | |||||||
| 12 | 14 | 14 | 14 | 14 | 7 | 7 | 7 | 7 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحوم کی بیوہ کو 12.50 فیصد، ہر بیٹے کو 14.583 فیصد اور ہر بیٹی کو 7.291 فیصد ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100039
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن