
ایک شخص کا انتقال ہوا، ورثاء میں بیوہ، ایک بیٹی اور چھ بہنیں ہیں، مذکورہ شخص کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ کل ترکہ میں سے سب سے پہلے ان کی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالے جائیں، اس کے بعد اگر ان پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کیا جائے، پھر اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی سے اسے نافذ کیا جائے، اس کے بعد باقی جائیداد منقولہ وغیرمنقولہ کے 16 حصے بناکر مرحوم کی بیوہ کو دو حصے، بیٹی کو آٹھ حصے اور ہر بہن کو ایک/ ایک حصہ دیا جائے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت 8/ 16
| بیوہ | بیٹی | بہن | بہن | بہن | بہن | بہن | بہن |
| 1 | 4 | 3 | |||||
| 2 | 8 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحوم کی بیوہ کو 12.50 فیصد، بیٹی کو 50 فیصد اور ہر بہن کو 6.25 فیصد ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100526
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن