بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوہ،تین بیٹے اور تین بیٹیوں میں پانچ لاکھ روپے تقسیم کرنے کا طریقہ


سوال

ایک شخص کا انتقال ہوگیا،ورثاء میں بیوہ،تین بیٹے اور تین بیٹیاں چھوریں، جب کہ مرحوم کے والدین ان کے وفات میں ہی فوت ہوچکے تھے، اب مرحوم کے ترکے کے پانچ لاکھ روپے مذکورہ ورثاء میں تقسیم کرنے ہیں،شرعی تقسیم کریں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد کے ترکے  کی   تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ کہ  سب سے پہلے مرحوم کے ترکہ میں سے حقوق متقدمہ (تجہیز و تکفین کے اخراجات ) نکالنے کے بعد، مرحوم کے ذمہ اگر کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد، مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی  ہو تو باقی ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے کے بعد  باقی ماندہ ترکہ کے کل 72 حصے کرکے مرحوم کی بیوہ کو9 حصہ، ہر ایک بیٹے کو14حصے، اور ہر ایک بیٹی کو سات حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت72/8

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹی
17
9141414777

یعنی 5 لاکھ روپے میں سے مرحوم کی بیوہ کو62500روپے، ہر ایک بیٹے کو 97222.222 روپے اور ہر ایک بیٹی کو 48611.111روپے ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100889

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں