
اگر بیت المال نہیں تو وارث کا حصہ کس کو دیا جائے گا۔
اگر میت کا کوئی وارث نہ ہو اور بیت المال بھی نہ ہو تو اس کا ترکہ بجائے بیت المال کے فقراء پر صرف کیا جائے گا ۔
مفید الوارثین میں ہے:
"آج کل ہندوستان میں چوں کہ اسلامی خزانہ اور بیت المال نہیں ہے لہذا جب کوئی وارث کسی قسم کا موجود نہ ہو تو میت کا ترکہ بجائے بیت المال کے فقراء پر صرف کر دیا جائے خواہ یہ فقراء مدارس کے طلبہ و مدرس ہوں یا خانقاہوں کے صوفی اور درویش یا مساجد کے امام و خادم ۔۔"
(ص:128،ط:ادارۃ اسلامیات)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102369
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن