
بیت اللہ شریف میں رش کی وجہ سے اگر نمازی نماز میں امام کے مقابلےمیں کعبہ کے زیادہ قریب ہو تو اُس کی نماز صحیح ہوگی؟
واضح رہے کہ بیت اللہ میں امام چار جہتوں میں سے جس جہت میں کھڑا ہو کر نماز پڑھا رہا ہے اُس جہت میں اگر کوئی مقتدی امام سے اتنی مقدار آگے بڑھتا ہے کہ اُس کی ایڑھی امام کی ایڑھی سے آگے ہوجائے اور وہ کعبہ سے امام کی بنسبت زیادہ قریب ہوجائے تو ایسے مقتدی کی نماز فاسد ہوجاتی ہے۔اور وہ مقتدی جو امام کی جہت میں نہ ہو، بلکہ دوسری جہات کی طرف ہو، اُن میں سے اگر کوئی مقتدی امام کی بنسبت کعبہ سے زیادہ قریب ہو تو ایسے مقتدی کی نماز صحیح اور درست ہے۔اس لیے بیت اللہ میں نماز ادا کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اس بات کا اہتمام کرے کہ جس جہت میں امام کھڑا ہو اُس جہت میں امام سے آگے نہ ہو، ورنہ نماز (خواہ پنج وقتہ ہو یا نمازِ جنازہ) ادا نہیں ہوگی، ازدحام(رش) وغیرہ کی وجہ سے بھی امام کی جانب آگے بڑھ کر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
"الفتاوى الهندية"میں ہے:
"وإذا صلّى الإمام في المسجد الحرام وتحلّق النّاس حول الكعبة وصلَّوا صلاة الإمام، فمن كان منهم أقرب إلى الكعبة من الإمام جازت صلاته إذا لم يكن في جانب الإمام، كذا في "الهداية".
(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الثالث، الفصل الرابع في النية، 1 /65، ط: رشيدية)
"رد المحتار"میں ہے:
"أمّا إذا كان أقرب إليها من الإمام في الجهة الّتي يصلّي إليها الإمام، بأن كان متقدّماً على الإمام بحذائه فيكون ظهره إلى وجه الإمام، أو كان على يمين الإمام أو يساره متقدّماً عليه من تلك الجهة ويكون ظهره إلى الصّف الّذي مع الإمام ووجهه إلى الكعبة، فلا يصحّ اقتداؤه؛ لأنّه إذا كان متقدّماً عليه لايكون تابعاً له، "بدائع."
(رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الصلاة في الكعبة، ج: 2، ص: 254-255، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706101024
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن