
ایک شخص نے اپنی چودہ سالہ بیٹی کے ساتھ زنا کیا ہے،تو کیا اس کے بعد اس کی بیوی اور اس کے درمیان نکاح باقی ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ مذکورہ شخص نے اپنی بیٹی کے ساتھ زنا کیا ہے،تو اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوچکی ہے،اس کے بعد مذکورہ شخص کے لئے اپنی بیوی کے ساتھ رہنا اور ازدواجی تعلق قائم کرنا حرام ہے؛ لہذا مذکورہ شخص پر لازم ہے کہ وہ اب اپنی بیوی کوطلاق دے کر فارغ کردے یا اپنی بیوی سے کہہ دے کہ "میں نے تمہیں چھوڑ دیا ہے"اس کے بعد مذکورہ شخص کی بیوی اپنی عدت (مکمل تین ماہواریاں اگر ماہواری آتی ہو،اور حمل نہ ہو،حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک کا عرصہ گزار کر )کسی اور شخص کے ساتھ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
اگر مذکورہ شخص اس واقعہ کے بعد بھی اپنے بیوی کو نہ چھوڑ دے،تو مذکورہ شخص کی بیوی مسلمان جج کی عدالت میں مقدمہ دائر کرے ،اور گواہوں کے ذریعہ واقعہ کے ثبوت پر عدالت ان میں تفریق کا فیصلہ کردے، تو عدت کے بعد وہ عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ، اس کارروائی کے بغیر مذکورہ شخص کی بیوی کے لئے دوسرا نکاح کبھی بھی حلال نہیں ہوگا ۔
نیز اس شخص کے ساتھ بیٹی کا تنہا رہنا اب درست نہیں، تاکہ دوبارہ والد کو ایسی شیطانی حرکت کا موقع نہ ملے۔
جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے:
"(و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام.
(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج: 3، ص: 32، ط: ایچ ایم سعيد)
"و بحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة.
(قوله: وبحرمة المصاهرة إلخ) قال في الذخيرة: ذكر محمد في نكاح الأصل أن النكاح لا يرتفع بحرمة المصاهرة والرضاع بل يفسد حتى لو وطئها الزوج قبل التفريق لا يجب عليه الحد اشتبه عليه أو لم يشتبه عليه.اهـ .(قوله: إلا بعد المتاركة) أي، وإن مضى عليها سنون كما في البزازية، وعبارة الحاوي إلا بعد تفريق القاضي أو بعد المتاركة. اهـ.
وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول، إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك، وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول وبالترك على قصد عدم العود إليها.وقيل: لا تكون إلا بالقول فيهما، حتى لو تركها، ومضى على عدتها سنون لم يكن لها أن تتزوج بآخر فافهم."
(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج: 3، ص: 37، ط: ایچ ایم سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100285
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن