بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیت الخلاء کا لوٹا اگر پاک پانی میں گرجائے تو پانی کا حکم


سوال

اگر پانی میں بیت الخلا کا لوٹا گر جاۓ تو پانی ناپاک ہوجاتا ہے یا نہیں؟

جواب

محض بیت الخلا میں استعمال ہونے کی بنیاد پر اور شک کی وجہ سے لوٹا ناپاک شمار نہیں ہوتا،البتہ اگر لوٹے پر کوئی ظاہری نجاست لگی ہوئی ہےیا اس کے ناپاک ہونے کا یقین ہے تو وہ ناپاک شمار ہوگا،لہذااگر لوٹا  ناپاک  نہیں ہےیا اس پر کوئی نجاست نہیں لگی اور وہ  پاک پانی میں گر جائے تو پانی ناپاک نہیں ہوگا،اور اگر لوٹا یقینی طور پر ناپاک ہے یا اس پر کوئی نجاست لگی ہے،اور پاک پانی میں گر جائے تو پانی ناپاک شمار ہوگا۔

واضح رہے کہ مذکورہ جواب ماء قلیل سے متعلق ہے،لہذا اگر پانی شرعی مقدار کے اعتبار سے زیادہ ہے(یعنی پانی کا وہ کنواں،تالاب،یا ٹینکی وغیرہ  رقبہ کے اعتبار سے225 اسکوائر فٹ پر ہو)تو اس کے نجس ہونے کا حکم پانی کے تین وصف(رنگ،بو اور مزہ) میں سے کسی ایک کے تبدیل ہونے پر ہے۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"شك في وجود النجس فالأصل بقاء الطهارة  ولذا قال محمد رحمه الله: حوض تملأ منه الصغار، والعبيد بالأيدي الدنسة، والجرار الوسخة يجوز الوضوء منه ما لم يعلم به  نجاسة."

(ألقاعدة الثالثة:اليقين لا يزول بالشك،ص:49،ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والفتوى في الماء الجاري أنه لا يتنجس ما لم يتغير طعمه أو لونه أو ريحه من النجاسة. كذا في المضمرات."

(کتاب الطہارۃ،ج1،ص17،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101791

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں