
مروت اور بیٹنی قوم سے تعلق رکھنے والے بہت سے نوجوان روزگار کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں۔ سعودی عرب میں کام کے دوران بعض مزدور حضرات مختلف حادثات وغیرہ میں وفات پا جاتے ہیں اور ایسی صورت میں وہاں قانونی کارروائی، میت کو پاکستان پہنچانے، اس کی تکفین و تدفین اور دیگر ضروری امور پر خاصا خرچ آتا ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر مروت و بیٹنی قوم سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک چندہ کمیٹی قائم کی ہے، جس کے باقاعدہ شرائط، قواعد اور ضوابط ہیں، جو اس استفتاء کے ساتھ منسلک ہیں۔
چندے کا مستحق بننے کے لیے کمیٹی کا رکن ہونا ضروری ہے، یعنی چندہ رجسٹر میں اپنا نام درج کرانا لازم ہے، بصورتِ دیگر اس شخص کے لیے کمیٹی پر چندہ جمع کرنا لازم نہیں ہوتا۔ ہر رکن ایک مقررہ رقم اس نیت سے جمع کراتا ہے کہ اگر خدانخواستہ آئندہ اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے اور اس کی وفات ہو جائے، تو اس کے لیے کمیٹی کی طرف سے چندہ جمع کیا جائے۔ یہ چندہ صرف وفات کی صورت میں جمع کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کے تمام اراکین چندے کے معاملے میں برابر کے مستحق سمجھے جاتے ہیں، چاہے کوئی شخص کئی سالوں سے کمیٹی کا رکن ہو اور مسلسل چندہ دیتا رہا ہو، یا کسی نے چند دن پہلے ہی اپنا نام چندہ رجسٹر میں درج کروایا ہو۔
جب کسی رکن کی وفات ہو جاتی ہے، تو کمیٹی حالات کو دیکھتے ہوئے چندے کی مجموعی مقدار طے کرتی ہے، اور اس مقررہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ہر رکن پر ایک مخصوص رقم مقرر کر دی جاتی ہے۔ چندے کی مجموعی رقم کافی زیادہ ہوتی ہے، اس میں سے سعودی عرب میں قانونی معاملات، میت کے ٹکٹ، اور تکفین و تدفین کے اخراجات پورے کرنے کے بعد بھی خطیر رقم باقی بچ جاتی ہے، جو تقریباً اسی (80) لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک ہوتی ہے۔ کمیٹی اس بات کی پابند ہوتی ہے کہ یہ بچی ہوئی رقم متوفی کے ورثاء کے حوالے کرے اور اس کی حوالگی کے وقت گواہوں اور تحریری دستاویزات کے ذریعے مکمل لکھت پڑھت بھی کی جاتی ہے۔ درحقیقت یہ رقم متوفی کی مدد کے لیے جمع کی جاتی ہے، لیکن چوں کہ وہ وفات پا چکا ہوتا ہے، اس لیے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ رقم شرعاً کس کا حق ہے؟ کیا یہ رقم متوفی کی بیوی اور بچوں کا حق ہے یا بہن بھائی بھی اس میں حق دار ہوں گے؟
یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ عرف و رواج کی بنا پر میت کے مختلف رشتہ دار چندے سے جمع شدہ رقم کے مطالبے کے ساتھ سامنے آ جاتے ہیں، جب كہ کمیٹی یہ چاہتی ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں صحیح حق دار متعین کر کے رقم انہی کو دی جائے۔ رقم کی حوالگی کے وقت کمیٹی کو درج ذیل مختلف صورتیں پیش آتی ہیں۔ ہر صورت میں شرعی طور پر مستحق کون ہوگا؟ اس کی وضاحت مطلوب ہے:
1) اگر متوفی غیر شادی شدہ ہو، والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتا ہو، والد نے اس کے لیے ویزا خرید کر اسے سعودی عرب بھیجا ہو، اور والد حیات ہوں، تو اس صورت میں چندے سے جمع شدہ رقم کا حق دار کون ہوگا، اور یہ رقم کس کے حوالے کی جائے؟
2) اگر متوفی غیر شادی شدہ ہو، والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتا ہو، والد نے ویزا خرید کر سعودی عرب بھیجا ہو، لیکن والد وفات پا چکے ہوں، تو اس صورت میں اس رقم کا حق دار کون ہوگا؟
3) اگر متوفی شادی شدہ ہو، اس کے بیوی بچے ہوں، والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتا ہو، والد نے ویزا خرید کر سعودی عرب بھیجا ہو، اور والد حیات ہوں، تو اس صورت میں اس رقم کا حق دار کون ہوگا؟
4) اگر متوفی شادی شدہ ہو، اس کے بیوی بچے ہوں، والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتا ہو، لیکن اس نے اپنے ذاتی خرچ سے ویزا خرید کر سعودی عرب کا سفر کیا ہو، تو اس صورت میں اس رقم کا حق دار کون ہوگا؟
5) اگر متوفی شادی شدہ ہو، اس کے بیوی بچے ہوں، اور وہ دیگر بہن بھائیوں سے علیحدہ رہائش اختیار کیے ہوئے ہو، تو اس صورت میں چندے سے جمع شدہ رقم کے مستحق صرف بیوی بچے ہوں گے یا بہن بھائی بھی اس میں حق دار ہوں گے؟
6) اگر متوفی کی بیوی اور بچے اس رقم کے مستحق قرار پائیں، لیکن بچے ابھی نابالغ ہوں اور رقم کی حفاظت اور درست مصرف کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں، تو کیا ایسی صورت میں کسی رشتہ دار کو ان کا کفیل مقرر کیا جا سکتا ہے؟
7) اگر کسی رشتہ دار کو اس رقم کا کفیل بنایا جائے، تو کیا وہ اس رقم کو اپنے ذاتی اخراجات میں استعمال کر سکتا ہے یہ کہہ کر کہ اس نے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری لے لی ہے؟ یا اس کی ذمہ داری صرف رقم کی حفاظت کرنا اور بچوں کے بالغ ہونے پر ان کا حق ان کے حوالے کرنا ہوگی؟
چندہ برائے اموات
(مروت بیٹنی – سعودی عرب)
مقام: الجبیل، سعودی عرب
مقصد: مروت بیٹنی قوم کے وفات یافتہ افراد کے لیے مالی مدد و تعاون
فیصلہ: مروت بیٹنی قوم کے تمام مشران کی متفقہ رائے سے طے شدہ اصول
متفقہ اصول و ضوابط
1۔ چندہ جمع کرانے کی مدت: فوتگی کے اعلان کے بعد 30 دن کے اندر چندہ منشی کو جمع کرانا لازم ہوگا۔ تاخیر کی صورت میں 500 ریال جرمانہ آئندہ چندہ کے ساتھ جمع کروانا ہوگا۔
2۔ ممبرشپ کا تسلسل:اگر کسی ممبر نے آخری فوتگی کا چندہ جمع نہ کرایا ہو تو اس کی ممبرشپ ختم تصور کی جائے گی۔
3۔ منشی کی بدتمیزی پر سزا: اگر چندہ منشی کسی ممبر کے ساتھ بدتمیزی کرے تو اس پر 1000 ریال جرمانہ عائد ہوگا جو اگلے چندہ میں شامل کیا جائے گا۔
4۔ میت کے ساتھ جانے والے کا ٹکٹ میت کے ساتھ پاکستان آنے جانے کا ٹکٹ چندۂ اموات فنڈ سے ادا کیا جائے گا۔
5۔ منشی کا اعزازیہ: ہر فوتگی پر منشی کو 2500 ریال اعزازیہ دیا جائے گا، خواہ وہ خود چندہ جمع کرے یا کسی کی معاونت سے۔
6۔ میت سے متعلق اخراجات: میت سے متعلق تمام اخراجات (ہسپتال، پولیس، ایمبیسی، کفن، تابوت وغیرہ) ثبوت کے ساتھ میت کے چندہ سے ادا کیے جائیں گے۔
7۔ منشی کی مالی ذمہ داری: چندہ میں کسی بھی قسم کی کمی بیشی کی صورت میں اس کی تلافی منشی کی ذمہ داری ہوگی۔
8۔ قوم کی عزت کا تحفظ: کمیٹی یا مشران کے ساتھ بدتمیزی کی صورت میں، اگر معاملہ پاکستان تک پہنچے تو اسے پوری قوم کا مسئلہ تصور کیا جائے گا۔
9۔ عام ممبران کی بدتمیزی: اگر کوئی ممبر منشی یا کمیٹی سے بدتمیزی کرے اور الزام ثابت ہو جائے تو اس پر 500 ریال جرمانہ عائد ہوگا۔
10۔ ممبر رجسٹریشن اور اخراج: کسی بھی نئے یا پرانے ممبر کے اندراج یا اخراج کے لیے اس کے ڈیرے کے مشر کا منشی سے رابطہ لازمی ہوگا۔ سعودی عرب پہلی بار آنے والے مہمان یا مسافر کے لیے رجسٹریشن بالکل مفت ہوگی۔
11۔ پاکستان میں ایڈوانس رقم: فوتگی کی صورت میں فوری طور پر 5 لاکھ روپے کفن و دفن کے لیے پاکستان ارسال کیے جائیں گے۔ باقی رقم شرعی اصولوں کے مطابق ورثاء کے حوالے کی جائے گی اور بطور ثبوت ورثاء سے اسٹامپ پیپر پر دستخط لیے جائیں گے۔
12۔ کمیٹی ممبر کی برطرفی: اگر کسی کمیٹی ممبر کی غلطی ثابت ہو جائے تو 70 فیصد اکثریت سے اسے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
13۔ کتاب منشی کی ذمہ داری: چندہ ریکارڈ (کتاب) کا مکمل ذمہ دار منشی ہوگا اور کسی بھی غلطی کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی۔
14۔ فیملی ممبرشپ: فیملی ویزہ پر آنے والا ممبر اگر اپنی بیوی بچوں کو چندہ میں شامل کرنا چاہے تو پہلے ایڈوانس چندہ اور مکمل دستاویزات منشی کو جمع کروانا ہوں گی۔
15۔ رجسٹرڈ ممبران کی حیثیت: جس شخص کا نام چندہ کتاب میں درج نہ ہو، اس پر چندہ لاگو نہیں ہوگا۔ اگر کوئی ڈیرے کا مشر یا کمیٹی ممبر دھوکہ دہی سے کسی غیر رجسٹرڈ فرد کو شامل کرنے کی کوشش کرے تو موقع پر دونوں افراد کی رکنیت ختم کر دی جائے گی اور جمع شدہ چندہ ضبط ہوگا۔
16۔ بیمار افراد کے لیے مدد: یہ چندہ صرف وفات یافتگان کے لیے ہے۔ بیمار افراد کے لیے مالی امداد چندہ فنڈ سے نہیں دی جائے گی، البتہ مشران انفرادی طور پر تعاون کر سکتے ہیں۔
17۔ کتاب کی جانچ پڑتال: قوم کے تمام افراد کو کتاب کی جانچ پڑتال اور مکمل تحقیقات کا ہر وقت حق حاصل ہوگا۔ کمیٹی اور چندہ کے ذمہ داران قوم کو تسلی بخش جواب دینے کے پابند ہوں گے۔
18۔ متوفی کے ذاتی قرضے: اگر متوفی پر سعودی عرب میں کسی کا قرض ہو تو کمیٹی اس کی ذمہ دار نہیں ہوگی۔
19۔ اگر کسی ڈیرے کا مشر یا فرد دھوکہ دہی سے سعودی میں موجود شخص کا نام چندہ لسٹ میں (چھٹی) پر ظاہر کرے لیکن بندہ سعودی عرب میں موجود ہو تو اس ڈیرے کی رکنیت منسوخ ہوگی اور جمع شدہ چندہ ضبط کیا جائیگا۔ اور چندہ بھی (جمع) نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ چندہ کمیٹی اور اس کا ممبر بننا درج ذیل مفاسد کی بنا پر شرعاً جائز نہیں ہے:
1) کمیٹی کا حصہ بننے کے بعد ہر ممبر پر ہر فوتگی کے موقع پر مخصوص رقم(چندہ) جمع کرانا لازم ہوتا ہے، اور اگر کوئی یہ رقم جمع نہ کرائے، تو اسے کمیٹی سے خارج کر دیا جاتا ہے، پھر کمیٹی اس کو وہ سہولیات فراہم نہیں کرتی، جو مخصوص رقم جمع کرانے والے ممبران کو فراہم کی جاتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمیٹی کی بنیاد امدادِ باہمی یا فی سبیل اللہ چندہ پر نہیں، بلکہ ہر ممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے مذکورہ سہولیات فراہم کرنا اور جمع کردہ رقم واپس کرنا ہے، جو اس کی جمع کردہ رقم سے کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر سعودی عرب میں کسی ممبر کا انتقال نہ ہو، یا بعض صورتوں میں دھوکہ دہی کی وجہ سے سابقہ چندہ ضبط ہو جائے،تو کچھ بھی نہیں ملتا۔ چناں چہ یہ معاملہ واضح طور پر قمار (جوا) میں داخل ہے، جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔
2) مذکورہ کمیٹی کے بعض ممبران جرمانہ یا معاشرتی دباؤ سے بچنے کے لیے مجبوراً یہ رقم جمع کراتے ہیں، جس میں خوش دلی اور رضامندی کا عنصر مفقود ہوتا ہے، جس کی بنا پر وہ مال استعمال کرنے والے کے لیے حلالِ طیب نہیں ہوتا، جب کہ حدیث شریف میں صراحت ہے کہ کسی مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے صرف اسی صورت میں حلال ہوتا ہے، جب وہ دل کی خوشی اور مکمل رضامندی سے دیا گیا ہو۔
3) بعض صورتوں میں دھوکہ دہی، تاخیر وغیرہ کی وجہ سے کمیٹی بعض ممبران پر جرمانہ عائد کرتی ہے، ایسی صورت میں مذکورہ کمیٹی کے تحت جمع کی جانے والی چندہ رقم میں بعض ممبران سے بطورِ جرمانہ لی گئی رقم بھی شامل ہوتی ہے، جب کہ شریعتِ مطہرہ کی رو سے کسی شخص پر مالی جرمانہ عائد کرنا یا کسی سے بطورِ جرمانہ مال وصول کرنا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی کسی کے لیے وہ رقم استعمال کرنا جائز ہوتا ہے۔
چوں کہ شرعاً مذکورہ”مروت بیٹنی چندہ کمیٹی“ سے متعلقہ ذکرکردہ قواعد و ضوابط میں سے بعض ضوابط غیر شرعی اور بعض مبہم ہیں، اس لیے یہ معاملہ شرعاًجائز نہیں ہے اور اس میں ممبر بن کر کسی قسم کا فائدہ حاصل کرنا بھی جائز نہیں ، اس لیے اب تک کمیٹی کے ممبران نے جتنی رقم جمع کرائی ہیں، یا کمیٹی نے ممبران سے بطورِ جرمانہ جو رقم وصول کی ہے، وہ رقم ان کو واپس کرنا ضروری ہوگا۔ نیز ممبران میں سے جو صاحبِ نصاب ہوں، ان پر اپنی جمع کرائی گئی رقم کی زکات ادا کرنا بھی لازم ہوگا۔ اور جن ممبران کا انتقال ہو چکا ہے، ان کی جمع کرائی گئی اصل رقم ان کے ترکہ میں شامل ہو کر ان کے شرعی ورثاء میں حصصِ شرعیہ کے مطابق تقسیم ہوگی۔ واضح رہے کہ کمیٹی کو درپیش مختلف صورتوں میں سے جن صورتوں میں مرحوم کا والد یا بیٹا، یا دونوں موجود ہوں، ان صورتوں میں مرحوم کے بہن بھائی اس رقم کے حق دار نہیں ہوں گے۔اور اگر مرحوم کا نہ والد موجود ہو اور نہ بیٹا، تو ایسی صورت میں مرحوم کے بہن بھائی بھی اس رقم میں شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے۔ چناں چہ:
پہلی صورت(یعنی جس میں متوفی غیر شادی ہو، والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتا ہو، والد نے اس کے لیے ویزا خرید کر اسے سعودی عرب بھیجا ہو، اور والد حیات ہوں) میں یہ رقم مرحوم کے والدین کو ملے گی، والدہ کو چھٹا حصہ ملے گا اور بقیہ پوری رقم والد کو دی جائے گی۔
دوسری صورت(یعنی جس میں متوفی غیر شادی شدہ ہو، والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتا ہو، والد نے ویزا خرید کر سعودی عرب بھیجا ہو، لیکن والد وفات پا چکے ہوں) میں مرحوم کی والدہ اور بہن بھائی وارث ہوں گے، والدہ کو چھٹا حصہ ملے گا، اور بقیہ رقم بہن بھائیوں میں ایک اور دو کے تناسب سے تقسیم کی جائے گی، یعنی ہر بھائی کو دو حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا۔
تیسری صورت(یعنی جس میں متوفی شادی شدہ ہو، اس کے بیوی ، بیٹے بیٹیاں ہوں، والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتا ہو، والد نے ویزا خرید کر سعودی عرب بھیجا ہو، اور والد حیات ہوں) میں مرحوم کے والدین، بیوہ اور بیٹے بیٹیاں وارث ہوں گے، والدین میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، بیوہ کو آٹھواں حصہ دیا جائے گا، اور بقیہ رقم مرحوم کے بیٹے بیٹیوں میں ایک اور دو کے تناسب سے تقسیم ہوگی، یعنی ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔
چوتھی اور پانچویں صورت(یعنی جس میں متوفی شادی شدہ ہو، اس کے بیوی ، بیٹے بیٹیاں ہوں، والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتا ہو، یا علیحدہ رہائش اختیار کیے ہوئے ہوں، لیکن اس نے اپنے ذاتی خرچ سے ویزا خرید کر سعودی عرب کا سفر کیا ہو) میں اگر مرحوم کے والدین زندہ ہوں، تو ان دونوں صورتوں میں بھی تیسری صورت ہی کا حکم لاگو ہوگا۔ اور اگر مرحوم کے والدین وفات پا چکے ہوں، تو بیوہ کو آٹھواں حصہ دینے کے بعد بقیہ رقم مرحوم کے بیٹے بیٹیوں میں ایک اور دو کے تناسب سے تقسیم ہوگی، یعنی ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔
واضح رہے کہ فوت ہونے والے ممبران کے نابالغ بچوں کے مالی معاملات کا ذمہ دار اور نگران وہ شخص ہوگا، جس کو انہوں نے خود انتقال سے پہلے اپنے نابالغ بچوں کے مالی معاملات کی نگرانی کے لیے مقرر کیا ہو، جسے اصطلاح میں ”وصی“ کہتے ہیں، اگر ایسا کوئی”وصی“ مقرر نہ کیا ہو، تو بچوں کا ولی(یعنی مالی معاملات کا ذمہ دار اور نگران) ان کا دادا ہوگا، اگر دادا نہ ہو تو دادا کا مقرر کردہ شخص یعنی ”وصی“ ان بچوں کے مالی معاملات کا ذمہ دار ہوگا، اگر ایسا بھی نہ ہو تو قاضی بچوں کے مالی معاملات کا ذمہ دار مقرر کرے گا، اور قاضی کی عدمِ موجودگی کی صورت میں خاندان کے با اثر لوگ جس شخص کو بچوں کے مالی معاملات دیکھنے کے لیے مقرر کر دیں، وہی ان بچوں کے مالی معاملات کا ذمہ دار ہو گا، جس کے پاس بچوں کا مال امانت ہوگا، اور وہ حسبِ ضرورت اس مال کو انہی پر خرچ کرنے کا مجاز ہوگا۔
حدیث شریف میں ہے:
"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."
(مشكاة المصابيح، كتاب البيوع، باب الغصب والعارية، الفصل الثاني، رقم الحديث:2814، ج:1، ص:261، ط:مكتبة رحمانية)
فتاوی شامی میں ہے:
"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."
(کتاب الحظر والإباحة، فصل فی البيع، ج:6، ص:403، ط:سعيد)
وفیہ أیضا:
"(قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4، ص:61، ط:سعيد)
وفیہ أیضاً:
"(قوله ووصي أبي الطفل أحق إلخ) الولاية في مال الصغير للأب ثم وصيه ثم وصي وصيه ولو بعد، فلو مات الأب ولم يوص فالولاية لأبي الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه فإن لم يكن فللقاضي ومنصوبه."
(كتاب الوصايا، باب الوصي، ج:6، ص:714، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707102104
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن