بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقوم، سہولت کار کی اجرت اور زکوٰۃ کی بینک کٹوتی کی شرعی حیثیت


سوال

کوئی شخص بےنظیر انکم اسپورٹ پروگرام کا ممبر بننا چاہتا ہے،جس کا مقصد یہ ہے کہ جو خواتین اس انکم کی مستحقات ہیں،ان کو اپنے ہی علاقے میں سہولت کے ساتھ ہر ماہ یہ فنڈ حاصل ہوجائے،اور مذکورہ شخص اس سہولت کو  فراہم کرنے کے بدلے میں ان مستحقات کے انکم سے کچھ متعین کٹوتی کرے گا،اور اس کٹوتی کی صراحۃ یادلالۃ ان کی طرف سے اجازت ہوگی،جبکہ اس سہولت کو فراہم کرنے کے عوض سائل کو حکومت کی طرف سے کچھ بھی نہیں ملے گا،اور ممبر بننے کی شرط یہ ہے کہ بینک میں دس لاکھ روپے بطور ضمانت اور رہن کے جمع کرنے ہوتے ہیں،تاکہ سہولت فراہم کرنے والا شخص دھوکہ کرکے فرار نہ ہوجائے،یا کوئی اور دھوکہ نہ کرے،اور استعفی دینے کے بعد بینک والے یہ پوری رقم واپس کرتے ہیں۔

1)بےنظیر انکم اسپورٹ  سے ملنے والی رقم کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

2)مذکورہ شخص جو لوگوں کی انکم سے سہولت فراہم کرنے کی بابت ان کی اجازت سے دلالۃ یا صراحۃ کٹوتی کرے گا،یہ شرعا درست ہے یا نہیں؟

3)بینک میں بطور ضمانت جو دس لاکھ روپے جمع ہوتے ہیں،بینک والے سال گزرنے پر اس سے زکات کی کٹوتی کرتے ہیں،جس کی بینک والوں کو صراحۃ یا دلالۃ اجازت ہوتی ہے،تو کیا زکات کی کٹوتی بینک والوں کی طرف سے ازروئے شریعت درست ہے؟

جواب

1۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت حکومت کی طرف سے جو رقم مستحق خواتین کو دی جاتی ہے، وہ بین الاقوامی فلاحی اداروں سے مستحقین کی امداد کے لیے حاصل کی جاتی ہے، اور اس پر کسی قسم کا انٹرسٹ و سود نہیں لیا جاتا۔لہذا اگر یہ رقم واقعی فقراء و مساکین (یعنی مستحقینِ زکوٰۃ) کو دی جائے تو ان کے لیے اس کو لینا شرعاً جائز ہے، لیکن جو افراد شریعت کے لحاظ سے غنی یا صاحبِ نصاب ہیں ان کے لیے اس رقم کو لینا جائز نہیں ہوگا۔

2۔اگر کوئی شخص اس پروگرام کے فنڈ کی ترسیل میں سہولت فراہم کرتا ہے، اور اس کے عوض مستحق خواتین کی صرف صریح اجازت سے کچھ متعین رقم یا فیصد اپنی اجرت کے طور پر وصول کرتا ہے، تو یہ اجرت شرعاً جائز ہے، کیونکہ یہ رشوت یا ناجائز کٹوتی نہیں، بلکہ ایک معلوم خدمت کے عوض اجرت ہے۔ بشرطیکہ مستحقین کی رضامندی موجود ہو اور صراحۃ اجازت ہوں ان کی طرف سے، اور کٹوتی واضح اور متعین ہو۔

3۔زکوٰۃ کی ادائیگی ایک عبادت ہے ،اور عبادت نیت کے بغیر صحیح نہیں ہوتی۔ لہٰذا محض بینک کا اپنے سسٹم کے تحت زکوٰۃ کاٹ لینا شرعاً ادائیگی کے لیے کافی نہیں ہوگا، جب تک کہ اکاؤنٹ ہولڈر نے صراحۃً یا دلالۃً بینک کو اپنی طرف سے وکیل نہ بنایا ہو اور اس کے ساتھ زکوٰۃ کی نیت بھی نہ کرے۔لہذا  اگر وکالت اور نیت دونوں موجود ہوں تو ایسی کٹوتی شرعاً صحیح اور کافی ہوگی، ورنہ  بصورت دیگر زکوٰۃ ادا نہ ہوگی اور مالک پر باقی رہے گی۔

جیسا کہ النتف فی الفتاوی  میں ہے:

"والثاني ان يقف الرجل وقفا ويقول وقفته على الارامل واليتامى او ابناء السبيل او الغارمين او العميان او المرضى او المسجونين فهو جائز ويكون وقفا على فقرائهم دون اغنيائهم."

(كتاب الوقف، الوقف الذي ينفرد به الفقراء، ج: 1،ص: 528، ط: مؤسسة الرسالة - بيروت)

تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه (وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي: قال الإمام أبو منصور يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان؛ إذ حب الدنيا رأس كل خطيئة نهاية مندوبة وقبولها سنة قال صلى الله عليه وسلم «تهادوا تحابوا» ."

(کتاب الهبة،ج: 5، ص: 687،ط: ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجاً ينسج له ثياباً في كل سنة".

( كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، مطلب في أجرة الدلال، ج: 6،ص: 63، ط: ایچ ایم سعيد)

وفیه أ یضا:

"ثم قال: وفي مختصر الكرخي إذا أخذها الإمام كرها فوضعها موضعها أجزأ؛ لأن له ولاية أخذ الصدقات فقام أخذه مقام دفع المالك. وفي القنية: فيه إشكال؛ لأن النية فيه شرط ولم توجد منه. اهـ. قلت: قول الكرخي فقام أخذه إلخ يصلح للجواب تأمل. ثم قال في البحر: والمفتى به التفصيل إن كان في الأموال الظاهرة يسقط الفرض؛ لأن للسلطان أو نائبه ولاية أخذها، وإن لم يضعها موضعها لا يبطل أخذه وإن كان في الباطنة فلا."

(کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ الغنم، ج:  2، ص: 290، ط: ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز. ولو دفعها إلى الذمي ليدفعها إلى الفقراء جاز لوجود النية من الآمر هكذا في محيط السرخسي فإن تجدد للموكل نية أخرى بعد الدفع إلى الوكيل قبل دفع الوكيل إلى الفقير كان عما نوى أخيرا حتى لو دفع إليه دراهم يتصدق بها عن زكاة ماله فلم يدفع المأمور حتى نوى الآمر أن يكون عن نذره وقعت عن ذلك كذا في السراج الوهاج."

رجل أدى زكاة غيره عن مال ذلك الغير فأجازه المالك فإن كان المال قائما في يد الفقير جاز، وإلا فلا كذا في السراجية."

(کتاب الزکوۃ، ج: 1، ص: 171، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101154

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں