بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیع عینہ اور اپنی فروخت شدہ چیز کم قیمت پر خریدنا


سوال

 میں نے مثال کے طورزید کو ایک  گاڑی ادھار یا اقساط پر دی،زید نے وہ گاڑی مخصوص ٹائم یا ماہانہ اقساط پر اس لیے لی کیوں کہ ان کو پیسوں کی ضرورت ہے اور نقد پر بیچ کر اپنا ضرورت پورا کرتا ہے۔ کیا میں زید سے دوبارہ وہی گاڑی نقد پر مارکیٹ کی قیمت پر یا اسے تھوڑا زیادہ قیمت پر واپس لے سکتا ہوں؟ اس میں زید کی رضامندی شامل ہوگی اور سودا کرتے وقت ایسا کوئی ایگریمنٹ نہیں ہوگا جس میں زید کو پابند کیا هو کہ میں ادھار پر تو گاڑی دوں گا لیکن آپ نے واپس مجھے پر بیچنا ہے۔ زید پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہوگی، زید آزاد ہے جدھر بیچنا چاہے بیچ سکتا ہے، اگر میں نقد پر مارکیٹ  ریٹ وہی گاڑی لوں تو شریعت میں اس کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کا زید کو ادھار یا اقساط پر گاڑی اس لیے فروخت کرنا تاکہ وہ اس گاڑی کو نقد بیچ کر ان پیسوں سے اپنی ضرورت پوری کرلے ،اس عقدِ بیع کو شریعت کی اصطلاح میں ’’بیع عینہ‘‘  کہتے ہیں جوکہ مکروہ اور قابلِ ترک ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے عقد کو رسوائی اور ذلت کا سبب قرار دیا ہے۔

نیزمذکورہ مسئلہ میں چونکہ زید نے گاڑی ادھار یا قسطوں پر لی ہے تو پیسوں کی  مکمل ادائیگی سے پہلے سائل کا زید سے اپنی فروخت شدہ چیز (گاڑی) کم قیمت(یعنی جس قیمت پر خریدار نے وہ چیز خریدی ہے اس سےکم قیمت) پر خریدنا  شرعا جائز نہیں ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے:

"عن ابن عمر، قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: إذا ‌تبايعتم ‌بالعينة، وأخذتم أذناب البقر، ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد، سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم."

(سنن ابی داؤد،باب فی النھی عن العینۃ،ج۵،ص۳۳۲،ط؛دار الرسالۃ العالمیۃ)

ترجمہ:"حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” کہ جب تک تم بیع عینہ کرتے رہوگے اور جانوروں کی دیکھ بھال میں لگے رہوگے اور زراعت میں گم ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ دوگے تو اللہ تم پر ذلت و رسوائی مسلط کردے گا، یہاں تک کہ تم دوبارہ دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔"

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: في بيع العينة) اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولايرغب المقرض في الإقراض طمعًا في فضل لايناله بالقرض فيقول: لاأقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهمًا وقيمته في السوق عشرة ليبيعه في السوق بعشرة فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهمًا وللمشتري قرض عشرة. وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثًا فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهما ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة ولصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهما، كذا في المحيط، وعن أبي يوسف: العينة جائزة مأجور من عمل بها، كذا في مختار الفتاوى هندية. وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. وقال عليه الصلاة والسلام: إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم."

(باب الصرف،ج۵مص۲۷۳،ط؛سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وصورة ‌العينة أن يشتري عينا بالنسيئة بأكثر من قيمته ليبيعه بقيمته بالنقد فيحصل له المال، كذا في المبسوط."

(کتاب الشرکۃ،ج۲،ص۳۱۲،ط:دار الفکر)

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(أمر) الأصيل (كفيله ببيع ‌العينة) أي بيع العين بالربح نسيئة ليبيعها المستقرض بأقل ليقضي دينه، اخترعه أكلة الربا، وهو مكروه مذموم شرعا لما فيه من الإعراض عن مبرة الإقراض.........

[مطلب بيع ‌العينة]

(قوله: أمر كفيله ببيع ‌العينة) بكسر العين المهملة وهي السلف، يقال باعه بعينة: أي نسيئة مغرب.:

وفي المصباح وقيل لهذا البيع عينة؛ لأن مشتري السلعة إلى أجل يأخذ بدلها عينا أي نقدا حاضرا اهـ، أي قال الأصيل للكفيل اشتر من الناس نوعا من الأقمشة ثم بعه فما ربحه البائع منك وخسرته أنت فعلي فيأتي إلى تاجر فيطلب منه القرض ويطلب التاجر منه الربح ويخاف من الربا فيبيعه التاجر ثوبا يساوي عشرة مثلا بخمسة عشر نسيئة فيبيعه هو في السوق بعشرة فيحصل له العشرة ويجب عليه للبائع خمسة عشر إلى أجل أو يقرضه خمسة عشر درهما ثم يبيعه المقرض ثوبا يساوي عشرة بخمسة عشرة، فيأخذ الدراهم التي أقرضه على أنها ثمن الثوب فيبقى عليه الخمسة عشر قرضا درر.:

ومن صورها أن يعود الثوب إليه كما إذا اشتراه التاجر في الصورة الأولى من المشتري الثاني ودفع الثمن إليه ليدفعه إلى المشتري الأول، وإنما لم يشتره من المشتري الأول تحرزا عن شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن.

(قوله: أي بيع العين بالربح) أي بثمن زائد نسيئة: أي إلى أجل وهذا تفسير للمراد من بيع ‌العينة في العرف بالنظر إلى جانب البائع، فالمعنى أمر كفيله بأن يباشر عقد هذا البيع مع البائع بأن يشتري منه العين على هذا الوجه؛ لأن الكفيل مأمور بشراء ‌العينة لا ببيعها، وأما بيعه بعد ذلك لما اشتراه فليس على وجه ‌العينة؛ لأنه يبيعها حالة بدون ربح.

(قوله: وهو مكروه) أي عند محمد، وبه جزم في الهداية."

(کتاب الکفالۃ،[مطلب بيع ‌العينة]ج۵،ص۳۲۵،ط؛سعید)

وفیہ ایضاً:

"باع عبدا بألف نسيئة وشرط الخيار لأجنبي فأجاز المشروط له الخيار والبيع ثم اشتراه الأجنبي بخمسمائة قبل نقد الثمن جاز وإن كان البائع هو الذي اشتراه لم يجز كذا في السراجية."

(کتاب البیوع،الفصل العاشر في بيع شيئين إحداهما لا يجوز البيع فيه وشراء ما باع بأقل مما باع،ج۳،ص۱۳۲،ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307102495

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں