
سن 2009ء میں میں نے کراچی کے علاقے ملیر میں ایک فارم ہاؤس پراجیکٹ میں 500 گز کا تعمیر شدہ فارم ہاؤس بک کروایا تھا، اس فارم ہاؤس کی 500گز زمین بھی متعین تھی کہ مجھے اس جگہ پر فارم ہاؤس بنا کر دیا جائے گا، اور مجھے وہ جگہ دکھا بھی دی گئی تھی کہ آپ کی یہ جگہ ہے۔
جس کی شرائط کچھ یوں تھیں کہ پارٹی مجھے 500 گز پر ایک فارم ہاؤس تعمیر کر کے دے گی، جو اس کی باؤنڈری وال کے اندر ہوگا، اور تعمیر کا دورانیہ ایک سال، یعنی 12 ماہ ہوگا۔
2۔فارم ہاؤس کی اصل قیمت 50 لاکھ روپے تھی، جو مجھے انویسٹر ڈسکاؤنٹ کے بعد 40 لاکھ روپے میں ملنا تھا، بشرطیکہ میں 25 لاکھ روپے ایڈوانس ادا کروں اور باقی 15 لاکھ روپے 12 قسطوں میں ادا کروں۔ اگر ایک سال کے عرصے میں مجھے فارم ہاؤس مل جاتا تو میں اگر چاہتا تو کمپنی مجھ سے یہ فارم ہاؤس 50 لاکھ روپے کے عوض واپس خرید سکتی ہے، بلکہ خرید لے گی۔
میں نے 25 لاکھ روپے کی ایڈوانس رقم اماراتی درہم کو کیش کروا کر ادا کی، جو اس وقت کے ریٹ کے مطابق 110,522 درہم بنتی تھی۔ بقایا قسطیں پاکستانی روپے میں ادا کی گئیں۔
بدقسمتی سے کئی سال گزرنے کے باوجود کمپنی نے نہ تو مجھے فارم ہاؤس بنا کر دیا اور نہ ہی میری رقم واپس کی۔ بلکہ 2020ء میں مجھے اپنی باؤنڈری وال سے کچھ فاصلے پر، باؤنڈری وال کے باہر، 2000 گز کا ایک ویران پلاٹ دے دیا۔ یہ تبادلہ اس یقین دہانی پر ہوا کہ مجھے اس پلاٹ کے مالکانہ حقوق (فارم 7) کے ذریعے منتقل کر دیے جائیں گے، لیکن تاحال ایسا نہ ہو سکا، اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ہونا ممکن نظر آ رہا ہے۔
آپ سے التماس ہے کہ براہِ مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں کہ آیا مذکورہ 2000 گز کا پلاٹ پارٹی کو واپس کر کے اس سے 110,522 درہم اور 15 لاکھ روپے، جو میں نے مجموعی طور پر ادا کیے ہیں، ان کا مطالبہ کروں، یا مذکورہ 2000 گز کا پلاٹ آج کی زمین کی قیمت کے مطابق رقم لے کر واپس کر دوں؟
یہ بات بھی واضح رہے کہ میں نے اپنے خرچے پر پلاٹ کے گرد باؤنڈری وال بھی تعمیر کروا لی ہے۔
اس معاملے میں قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی راہ نمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ کسی بھی چیزکی بیع تام ہو جانے کے بعد بیچنے والا اس کی قیمت اور خریدنے والے اس چیز کا مالک بن جاتا ہے، نیز بیع تام ہو جانے کے بعد عاقدین کے رضامندی کے بغیر کوئی ایک فریق اس بیع کو نہیں ختم کر سکتا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ نے جب 2009 میں ایک فارم ہاؤس بک کروایا تھا، لیکن وہ فارم ہاؤس نہ ملنے کی صورت میں آپ نے اس کے بدلے میں 2000گز کا مذکورہ پلاٹ لے لیا تھا، تو اس سے بیع مکمل ہو گئی تھی، جس کے بعد مذکورہ پلاٹ کے آپ مالک بن چکے ہو اور ادا کیے گئے چالیس لاکھ پر بیچنے والے کی ملکیت ثابت ہو گئی تھی۔
اور اب اگر آپ اور جس سے آپ نے پلاٹ خرید ا ہے باہمی رضامندی سے اگر اس سودے کو اسی چالیس لاکھ روپے کے عوض ختم کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، لیکن اگر وہ رضامند نہ ہو تو پھر آپ یکطرفہ طور پور اس سودے کو نہیں ختم کر سکتے۔
البتہ اگر آپ اس پلاٹ کو اس کی موجودہ قیمت پر فروخت کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں، وہ خواہ اسی آدمی کو بیچیں جس سے آپ نے خریدا تھا یا کسی اور کو معاملہ شرعاً درست ہو جائے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ واپس کرنے کی صورت میں سابقہ قیمت پر واپس کرنا ہوگا اور فروخت کرنے کی صورت میں موجودہ قیمت پر فروخت کرنا جائز ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے :
"وأما الذي يرجع إلى نفس العقد فهو أن يكون القبول موافقا للإيجاب، بأن يقبل المشتري ما أوجبه البائع وبما أوجبه، فإن خالفه بأن قبل غير ما أوجبه أو بعض ما أوجبه أو بغير ما أوجبه أو ببعض ما أوجبه؛ لا ينعقد من غير إيجاب مبتدإ موافق بيان هذه الجملة إذا أوجب البيع في العبد فقبل في الجارية، لا ينعقد، وكذا إذا أوجب في العبدين فقبل في أحدهما بأن قال: بعت منك هذين العبدين بألف درهم فقال المشتري: قبلت في هذا العبد وأشار إلى واحد معين لا ينعقد؛"
(كتاب البيوع،فصل في الشرط الذي يرجع إلى نفس العقد،ج:5،ص: 136، ط: دار الكتب العلمية)
وفیہ ایضا:
"(أما) الحكم الأصلي، فالكلام فيه في موضعين: في بيان أصل الحكم، وفي بيان صفته.(أما) الأول: فهو ثبوت الملك للمشتري في المبيع، وللبائع في الثمن للحال."
(كتاب البيوع، فصل في حكم البيع، ج: 5، ص: 233، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"لأن من شرائطها إتحاد المجلس ورضا المتعاقدين.
و في الرد : (قوله: ورضا المتعاقدين) لأن الكلام في رفع عقد لازم، وأما رفع ما ليس بلازم فلمن له الخيار بعلم صاحبه لا برضاه بحر."
(کتاب البيوع، باب الإقالة ، ج: 5 ،ص :121 ،ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101509
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن