
ہم نے گیارہ سال پہلے ایک شخص کو مشترکہ زمین سب کی اجازت سے فروخت کی تھی لیکن قبضہ نہیں دیا تھا، کافی وقت گزرنے کی وجہ سے اس شخص نے کہا: زمین نہیں دے سکتے تو میری رقم دس ہزار روپے کرکےہرمہینے میں واپس کردو، تو ہم نے اس کو صرف ایک ماہ دس ہزار روپے واپس کیے اور کچھ مہینے دس دس ہزار روپے نہیں دے سکے، اب ہم بقیہ پیسے پابندی کے ساتھ واپس کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ شخص اب ضد کر رہا ہے کہ مجھے زمین چاہیے، اور اب ہم اپنی کچھ مجبوریوں کی وجہ سے زمین نہیں دے سکتے ہیں۔
بیع کرتے وقت ہمارے درمیان قیمت کی ادائیگی کی مدت کے بارے میں کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی،اوراس شخص نے تین لاکھ روپے کچھ عرصے میں دیے تھے، اب وہ کہہ رہا ہے کہ گیارہ سال آپ نے میرا پیسہ استعمال کیا ہے، تو ہم پر تین لاکھ روپے دینا لازم ہیں یا زیادہ پیسے دینا؟
صورت مسئولہ میں بیع ہونے کے بعد جب فریقین نے بیع ختم کردی تو بیع ختم ہونے کے بعد مذکورہ شخص کااب دوبارہ زمین لینے کا مطالبہ کرنادرست نہیں ہے،اور بیع ختم ہونے کے بعد بائع کے ذمہ صرف تین لاکھ روپے واپس لوٹانا لازم ہیں،اور اگر زمین خریدنے والا اپنے مکمل پیسوں کی ادائیگی کاایک ساتھ مطالبہ کرےتو بائع کو وہ پیسے فورا دینا لازم ہو گانیززمین خریدنے والے کا تین لاکھ روپے سے زیادہ کی واپسی کامطالبہ کرنادرست نہیں ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) تصح أيضا (بفاسختك وتركت وتاركتك ورفعت وبالتعاطي) ولو من أحد الجانبين (كالبيع) هو الصحيح بزازية.
في الرد: (قوله: هو الصحيح بزازية) عبارتها قبض الطعام المشتري وسلم بعض الثمن ثم قال بعد أيام إن الثمن غال فرد البائع بعض الثمن المقبوض، فمن قال البيع ينعقد بالتعاطي من أحد الجانبين جعله إقالة وهو الصحيح."
(کتاب البیوع، باب الإقالة، ج: 5، ص: 120، ط: دار الفکر بیروت)
وفیہ ایضا:
"(تصح بمثل الثمن الأول وبالسكوت عنه).
في الرد: (قوله: وبالسكوت عنه) المراد أن الواجب هو الثمن الأول سواء سماه أو لا، قال في الفتح: والأصل في لزوم الثمن، أن الإقالة فسخ في حق المتعاقدين، وحقيقة الفسخ ليس إلا رفع الأول كأن لم يكن فيثبت الحال الأول، وثبوته برجوع عين الثمن إلى مالكه كأن لم يدخل في الوجود غيره وهذا يستلزم تعين الأول، ونفي غيره من الزيادة والنقص وخلاف الجنس اهـ."
(کتاب البیوع، باب الإقالة، ج: 5، ص: 125، ط: دار الفکر بیروت)
وفیہ ایضا:
"(لا تفسد بالشرط) الفاسد.
في الرد: (قوله: لا تفسد بالشرط الفاسد) كشرط غير الجنس أو الأكثر أو الأقل كما علمت."
(کتاب البیوع، باب الإقالة، ج: 5، ص: 126، ط: دار الفکر بیروت)
البحرالرائق میں ہے:
"وأشار أيضا بقوله لزمه الثمن الأول إلى أنه لو كان الثمن الأول حالا فأجله المشتري عند الإقالة فإن التأجيل يبطل، وتصح الإقالة، وإن تقايلا ثم أجله فينبغي أن لا يصح الأجل عند أبي حنيفة فإن الشرط اللاحق بعد العقد يلتحق بأصل العقد عنده كذا في القنية."
(کتاب البیع، باب الإقالة، ج: 6، ص: 114، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتح القدیر میں ہے:
"(أن الإقالة فسخ في حق المتعاقدين) وحقيقة الفسخ ليس إلا رفع الأول كأن لم يكن فيثبت الحال الأول، وثبوت الحال الأول هو برجوع عين الثمن الأول إلى مالكه كأن لم يدخل في الوجود غيره وهو يستلزم تعيين الأول ونفي غيره من الزيادة والنقص وخلاف الجنس والأجل."
(کتاب البیوع، باب الإقالة، ج: 6، ص:487، ط: دار الفكر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101623
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن