
(1)میں نے ایک شخص کو سوبوری یعنی پچیس کلو سوکھا دودھ بائیس ہزار روپے میں فروخت کیا، فون پر ایجاب و قبول کے بعد بیع مکمل ہوئی، اس کے بعد میں نے خریدار کو فون پر یہ اطلاع دی کہ اپنی بوریوں کو دکان سے اٹھا لو، بعد میں اگر آفتِ سماویہ کی وجہ سے مال ہلاک ہو جائے یا کسٹم والے اٹھا کر لے گئے تو اس کی ذمہ داری میری نہیں ہوگی، خریدار نے اس پر کہا: اچھا‘‘ اس کےتقریباً دو دن بعد کسٹم والے آ کر وہ مال اٹھا کرلے گئے۔
اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں مبیع خریدار کےضمان میں داخل ہوا تھی یا نہیں؟ نقصان کس کا ہوگا؟
وضاحت:فروخت شدہ سو بوریاں علیحدہ طور پر متعین کر کے نہیں رکھی گئی تھیں، بلکہ وہ دیگر بوریوں کے ساتھ مخلوط تھیں۔
(2)کبھی مذکورہ چیز فروخت کرنےکے بعد متعین کر کے الگ رکھ دی جاتی ہے اور مشتری کو فون میں اطلاع دی جاتی ہے کہ اپنا سامان اٹھا لو اگر ہلاگ ہوجائے ہم ذمہ دار نہیں ، اس کےبعد وہ چیز بائع کے پاس ہلاک ہوجاتی ہے یا کسٹم والے لے جاتے ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟
(1)واضح رہے کہ خرید و فروخت کے بعد اگر خریدار کو مبیع حوالہ کرنےاور قبضہ دینے سے پہلے ہی وہ چیز بائع کے پاس ہلاک ہو جائے تو شریعت کی رو سے یہ معاملہ خود ختم ہو جاتا ہے، اور اس نقصان و تاوان کی ذمہ داری بائع پر آتی ہے اور اگر خریدار نے قیمت ادا کر دی ہو تو بیچنے والے پر لازم ہے کہ وہ رقم واپس کرے۔
ملحوظ رہے کہ شرعاً خریدار کا قبضہ اس وقت معتبر ہوتا ہے جب بائع مبیع اور خریدار کے درمیان کی تمام رکاوٹیں ختم کر دے اور خریدار بنفسِ نفیس وہاں موجود ہو ، اگر خریدار موقع پر موجود نہ ہو تو یہ بائع کی طرف سے فون پرحوالگی اور بری الذمہ ہونے کی بات کرنے سےمشتری کی طر ف سے قبضہ شمار نہیں ہوگا۔
لہذاصورتِ مسئولہ میں اگرچہ بائع (سائل) نے مبیع اور خریدار کے درمیان کی تمام رکاوٹیں ختم کر دی تھیں، تاہم چونکہ خریدار بذاتِ خود موقع پر موجود نہ تھا، اس لیے اس کا قبضہ تام نہ ہوسکا اور مبیع بدستور بائع ہی کے قبضہ میں رہی، اسی دوران کسٹم والے بائع کے پاس سے وہ مال ضبط کر کے لے گئے، لہٰذا مبیع کے تلف ہوجانے کی وجہ سے شرعاً یہ معاملہ فسخ ہوگیااوراس نقصان و تاوان کی ذمہ داری بائع (سائل) پر ہی عائد ہوگی، اور اگر خریدار نے قیمت ادا کر دی تھی تو اس کا واپس کرنا بائع پر واجب ہے۔
(2)اگر بائع نے مبیع کو متعین کرکے الگ بھی رکھ دیا ہو، لیکن اس وقت مشتری بذاتِ خود موجود نہ ہو اور وہ چیز بائع ہی کے پاس رہتے ہوئے ہلاک ہو جائے یا کسٹم والے اٹھا کر لے جائیں، تو اس صورت میں بھی شرعاً معاملہ فسخ ہوجائے گا، اور اس نقصان و تاوان کی ذمہ داری بائع (سائل) پر ہی عائد ہوگی اور اگر خریدار نے قیمت ادا کر دی ہو تو اس کا واپس کرنا بائع پر لازم ہے۔
البتہ اگر بائع نے مبیع اور مشتری کے درمیان تخلیہ کر دیاہو اور اس وقت خریدار بھی بنفسِ نفیس وہاں موجود ہو، تو اس صورت میں شرعاً خریدار کا قبضہ تام شمار ہوگالہٰذا اگر بعد میں مبیع ہلاک ہو جائے یا کسٹم والے ضبط کر لیں، تو اس کا ضامن مشتری ہوگا اور مشتری نے اگر اس کی قمیت بائع کو ادا نہ کی ہو تواس کی قیمت ادا کرنے کا پابند ہوگا۔
فتح القديرمیں ہے:
"فلو هلك في يد البائع بفعله أو بفعل المبيع بنفسه بأن كان حيوانا فقتل نفسه أو بأمر سماوي بطل البيع، فإن كان قبض الثمن أعاده إلى المشتري".
(كتاب البيوع،فصل من باع دارا دخل بناؤها في البيع،ج:6،ص:296،ط:دار الفكر)
وفیہ ایضاً:
"تسليم المبيع أن يخلى بينه وبين المبيع على وجه يتمكن من قبضه من غير حائل، وكذا تسليم الثمن. وفي الأجناس يعتبر في صحة التسليم ثلاثة معان: أن يقول خليت بينك وبين المبيع، وأن يكون المبيع بحضرة المشتري على صفة يتأتى فيه الفعل من غير مانع، وأن يكون مفرزا غير مشغول بحق غيره".
(كتاب البيوع،فصل من باع دارا دخل بناؤها في البيع،ج:6،ص:297،ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل.
مطلب في شروط التخلية وحاصله: أن التخلية قبض حكما لو مع القدرة عليه بلا كلفة لكن ذلك يختلف بحسب حال المبيع، ففي نحو حنطة في بيت مثلا فدفع المفتاح إذا أمكنه الفتح بلا كلفة قبض، وفي نحو دار فالقدرة على إغلاقها قبض أي بأن يكون في البلد فيما يظهر، وفي نحو بقر في مرعى فكونه بحيث يرى ويشار إليه قبض وفي نحو ثوب، فكونه بحيث لو مد يده تصل إليه قبض، وفي نحو فرس أو طير في بيت إمكان أخذه منه بلا معين قبض."
(کتاب البیوع،مطلب فيما يكون قبضا للمبيع،ج:4،ص:561،ط:سعید)
فقط وللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101315
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن