بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بہو کو مشکوک نظروں سے دیکھنے اور بلاوجہ اسے میکے بھیجنے کا حکم


سوال

میری ساس کا انتقال دو سال قبل ہو چکا ہے۔ میرے سسر کی نگاہ مجھ پر درست نہیں رہتی،  اور وہ مجھے اپنی نظروں کے ذریعے ہراساں کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک مرتبہ انہوں نے (کسی معاملے پر غصّے میں) مجھ پر ہاتھ اٹھایا، مجھے مارا، میرا دوپٹہ اتار دیا اور میرے بال کھینچے۔ البتہ انہوں نے کبھی مجھے نامناسب طور پر ہاتھ نہیں لگایا، اور نہ ہی کبھی چھوا۔ یہ واقعہ میں نے اپنے شوہر کو بھی بتایا، مگر انہوں نے اس پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

اس کے باوجود میرے سسرال والوں نے مجھے اور میری دونوں بچیوں کو میرے والدین کے گھر بھجوا دیا، اور گزشتہ ایک ماہ سے میں اپنے والدین ہی کے گھر مقیم ہوں۔

ایسی صورتِ حال میں شریعت کی روشنی میں میرے شوہر اور سسر کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سسرالی رشتہ ایک مقدس رشتہ ہے، اللہ تعالیٰ نے نسبی رشتے کی طرح سسرالی رشتے کو بھی اپنی نعمت شمار فرمایا ہے، اور اس رشتے کی بدولت بہو کو ساس سسر کی نظر میں بیٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔ لہٰذا کسی شخص کا اپنی بہو کو مشکوک نظروں سے دیکھنا یا اسے اپنی نگاہوں کے ذریعے ہراساں کرنے کی کوشش کرنا انتہائی قبیح اور نازیبا حرکت ہے۔

اسی طرح شریعت میں سسر کو بہو کی کسی غلطی پر بھی ہاتھ اٹھانے کی ہرگز اجازت نہیں۔ بسا اوقات شہوت کی صورت میں حرمتِ مصاہرت بھی ثابت ہوسکتی ہے، اور اگر واقعۃ بہو سے کوئی ایسی غلطی سرزد ہو جو قابلِ درگزر نہ ہو، تب بھی سسر کا براہِ راست اسے ٹوکنا مناسب نہیں؛ بلکہ اسے چاہیے کہ وہ اس کی اصلاح اس کے شوہر کے ذریعے  کروائے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ سائلہ کے سسر کی نگاہ اس پر درست نہ  ہو، یا اپنی نگاہوں کے ذریعے اسے ہراساں کرنے کی کوشش کرتا ہو، تو اس کی یہ حرکت شرعًا ناجائز اور باعثِ گناہ  ہے، انہیں اس حرکت سے باز آجانا چاہیے۔

مزید یہ کہ اس معاملے میں سائلہ کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنے والد کو پیار، محبت، حکمت اور بصیرت کے ساتھ سمجھائے، اور انہیں اپنی بیوی پر دست درازی سے باز رکھے۔ اگر وہ خود یہ بات مؤثر انداز میں نہ سمجھا سکے تو کسی معتبر اور معاملہ شناس رشتہ دار کو درمیان میں ڈالے۔ البتہ والد کے حقوق اور ان کے مقام و مرتبہ کا لحاظ ضرور رکھے۔

اسی طرح شوہر کو چاہیے کہ وہ باعزت طریقے سے اپنی بیوی اور بچیوں کو واپس لا کر اپنا گھر آباد کرے، اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کرے۔ اور سسرال والوں میں سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ میاں بیوی کے درمیان رخنہ ڈالنے کی کوشش کرے یا بیوی کو بلاوجہ شرعی میکے بھیجے۔

نیز اگر مشترکہ گھر میں رہتے ہوئے بیوی بچوں کے حقوق ضائع ہو رہے ہوں، یا ان کی عزت و ناموس کو خطرہ لاحق ہو، تو شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کے لیے علیحدہ گھر کا انتظام کرے۔

حدیث شریف میں ہے: 

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس منا من خبب امرأة على زوجها، أو عبدا على سيده."

(سنن أبي داود، كتاب تفريع أبواب الطلاق، باب في من خبب امرأة على زوجها، ج:2، ص:254، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو اس کے مالک سے برگشتہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام إلا لملازمة مديونة هربت ودخلت خربة أو كانت عجوزا شوهاء أو بحائل، والخلوة بالمحرم مباحة إلا الأخت رضاعا، والصهرة الشابة.

وفي الرد: (قوله إلا الأخت رضاعا) قال في القنية: وفي استحسان القاضي الصدر الشهيد، وينبغي للأخ من الرضاع أن لا يخلو بأخته من الرضاع، لأن الغالب هناك الوقوع في الجماع اهـ.

وأفاد العلامة البيري أن ينبغي معناه الوجوب هنا (قوله والصهرة الشابة) قال في القنية: ماتت عن زوج وأم فلهما أن يسكنا في دار واحدة إذا لم يخافا الفتنة وإن كانت الصهرة شابة، فللجيران أن يمنعوها منه إذا خافوا عليهما الفتنة اهـ وأصهار الرجل كل ذي رحم محرم من زوجته على اختيار محمد والمسألة مفروضة هنا في أمها والعلة تفيد أن الحكم كذلك في بنتها ونحوها كما لا يخفى."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج:6، ص:369، ط:ايج ايم سعيد)

وفيه أیضاً:

"وفي البحر عن الخانية: يشترط أن لا يكون في الدار أحد من أحماء الزوج يؤذيها، ونقل المصنف عن الملتقط كفايته مع الأحماء لا مع الضرائر فلكل من زوجتيه مطالبته ببيت من دار على حدة.

وفي الرد: قلت: والحاصل أن المشهور وهو المتبادر من إطلاق المتون أنه يكفيها بيت له غلق من دار سواء كان في الدار ضرتها أو أحماؤها. وعلى ما فهمه في البحر من عبارة الخانية وارتضاه المصنف في شرحه لا يكفي ذلك إذا كان في الدار أحد من أحمائها يؤذيها، وكذا الضرة بالأولى."

(کتاب الطلاق، باب النفقة، مطلب في مسکن الزوجة، ج:3، ص:601، ط:ایج ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100318

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں