بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بہو کے انتقال کے بعد ان کے پاس بطور امانت رکھے ہوئے زیورات کا حکم


سوال

 بیس سال پہلے میری بیگم نے اپنی شادی پہ رشتہ داروں سے ملنے والے تقریباً پانچ تولہ کے قریب زیورات شادی کے دوسرے دن  میری والدہ کے پاس رکھوا دئیے، ابھی میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے انتقال سے چھ مہینہ پہلےمیری بیگم اور میں نے اپنی دونوں بیٹیوں کے سامنے اپنی والدہ سے مطالبہ کرکے پوچھا کہ آپ کے پاس میری بیگم کی امانت ہے اور باقاعدہ میری بیگم کو جس جس نے جو چیز شادی پہ دی تھی سب یاد دلاکے بتا دیا، اس پرمیری والدہ نے کہا کہ مجھے یاد ہے، میں بہت جلد سب لوٹا دوں گی، پریشان نہیں ہو، میں سارا بندوبست کررہی ہوں، ابھی ان کے انتقال کے بعد میرا بڑا بھائی بتارہا ہے کہ والدہ سے میں نے اور میری بیگم نےچھ مہینے پہلے اپنی بیگم کی امانت کا جو تذکرہ کیا تھا والدہ نے اس بارے میں مجھے دوسرے دن ہی بتایا تھا، لیکن وہ یہ بول رہا ہے کہ مجھے صرف ایک تولہ کا یاد ہے، باقی مجھے یاد نہیں آرہا ہے، میں بھول گیا ہوں، والدہ کا موبائل بھی اپنے قبضہ میں لے لیا ہے اور کہہ رہا ہے کہ موبائل میں سے سب ڈیلیٹ ہوگیا ہے، باقی سارے بھائی اور والد صاحب امانت کو میرے کہنے پہ یقین کرکے دینے پہ رضامند ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں واقعۃً اگر سائل کی بیوی نے اپنی بہو کے پاس بطور امانت   پانچ تولہ کے قریب زیورات رکھے تھے اور والدہ نے اپنے انتقال سے چھ مہینے قبل اقرار بھی کیا تھا کہ”مجھے سب یاد ہے اور جلد ہی سب لوٹا دوں گی"،دیگر ورثاء اس دعوی کی تصدیق کرتے ہیں  تو سائل کی بیوہ کو اپنی بہو کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ کی تقسیم سے پہلے اپنے زیورات لینے کا حق حاصل ہے۔بڑے بھائی کے اس بات” کہ مجھے صرف ایک تولے کا یاد ہے باقی مجھے یاد نہیں آرہا ہے“دیگر ورثاء کی تصدیق کے مقابلہ میں وزن نہیں رکھتا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وركنها: الإيجاب صريحا)......(أو فعلا) كما لو وضع ثوبه بين يدي رجل ولم يقل شيئا فهو إيداع (والقبول من المودع صريحا) كقبلت (أو دلالة) كما لو سكت عند وضعه فإنه قبول دلالة كوضع ثيابه في حمام بمرأى من الثيابي."

(کتاب الإیداع، ج:5، ص:663، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

" وكل أمين مات والعين يحصر … وما وجدت عينا فدينا تصير

(قوله يحصر) أي يحفظ، مفعوله " العين " قبله (قوله تصير) بالبناء للمجهول."

(کتاب الإیداع، ج:5، ص:668، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144708101090

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں