بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بہو کا صرف شوہر کی رہائش کی بنیاد پر گھر پر قبضہ کرنا


سوال

درجہ ذیل سوالوں کے بارے میں راہ نمائی چاہیے:

1:میرے بیٹے کا انتقال ہوگیا ہے، ورثاء میں والدین، بیوہ، دوبیٹے اور دو بیٹیاں موجود ہیں، مرحوم کی میراث میں ہر ایک وارث کا کتنا حق بنتاہے؟

2؛میرا گھر ہے جو میرے اور میری بیوی کے نام ہے، میرا بیٹا بھی اسی گھر میں رہتاتھا، میری بہو اس گھر پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، او رقبضہ کرنے کے لیے گھر پر غنڈے لانے کی دھمکیاں بھی دیتی ہے۔

اب سوال یہ ہےکہ میری بہو کا صرف اس بناء پر ہمارے گھر پر قبضہ کرنا جائز ہے؟

جواب

1:سائل کے مرحوم بیٹے کی ملکیت میں اس کی موت تک جو کچھ تھا، وہ مرحوم کے ترکہ میں شامل ہوگا، اور حصصِ شرعیہ کے تناسب سےمرحوم کےتمام ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا، جس کاطریقہ یہ ہےکہ مرحوم کے ترکہ سے اس کے  حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین  کے اخراجات نکالنےکےبعد،اگر س کے ذمہ  قرض ہوتو اسے  ترکہ  سے ادا کرنے کے بعد ،اگرانہوں نے  کوئی جائز وصیت کی ہوتو باقی ترکہ کے ایک تہائی حصہ سےاسے پورا کرنے کے بعد ،بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ144 حصے کرکے 18 حصے مرحوم  کی بیوہ کو، 24 حصے مرحوم بیٹے کے والد کو، 24 حصے  مرحوم کی والدہ کو، 26 حصے مرحوم کے ہر ایک  بیٹے کو، 13 حصے  مرحوم کی ہر یک بیٹی کو ملیں گے۔

صورتِ  تقسیم یہ ہے:

میت(بیٹا مرحوم):144/24

بیوہوالدوالدہبیٹابیٹابیٹیبیٹی
34413
18242426261313

یعنی فیصد کے اعتبارسےمرحوم کے ترکہ کا 12.5 فیصد مرحوم  کی بیوہ کو، 16.666 فیصد مرحوم بیٹے کے والد کو، 16.666 فیصد مرحوم کی والدہ کو،  18.055 فیصد مرحوم کے ہر ایک  بیٹے کو، 9.027 فیصد مرحوم کی ہر ایک ہر یک بیٹی کو ملے گا۔

2:مذکورہ گھر چونکہ سائل اور اس کی بیوی کی ملکیت ہے، لہٰذا مرحوم بیٹے کی بیوہ کا شرعًا اس میں کوئی حق نہیں، مذکورہ گھر پر قبضہ کرنا غصب کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ‌سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."

( كتاب البيوع، باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها، رقم الحديث: ١٦١٠، ط: دار الطباعة العامرة - تركيا)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100096

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں