بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

باہمی رضا مندی سے ترکہ تقسیم ہونے کے بعد کسی وارث کا اعتراض کرنا


سوال

ایک جائیداد وراثت میں منتقل ہوئی جس کی تقسیم سن 2012 میں تمام بالغ ورثاء کے درمیان باہمی طور پر عمل میں آئی۔ تقسیم کے وقت جائیداد کی مجموعی مالیت متعین کی گئی اور اس میں شامل مختلف حصوں مثلاً دکانیں اور رہائشی یونٹس کی علیحدہ علیحدہ قیمت بھی طے کی گئی۔

تقسیم کے بعد ہر وارث نے اپنے حصے پر قبضہ حاصل کیا اور اپنے اپنے حصے میں اپنی استطاعت کے مطابق تعمیر و بہتری کی، نیز ان حصوں سے رہائش یا کرایہ کی صورت میں نفع بھی حاصل کرتے رہے، جو تاحال جاری ہے۔

ورثاء میں سے ایک وارث کو تقریباً 100 گز گراؤنڈ فلور کا ایک حصہ ملا۔ اس وارث نے اپنے حصے پر قبضہ حاصل کیا، اپنی ذاتی رقم سے اس میں مزید تعمیرات کروائیں، اس میں رہائش اختیار کی ،اس کے کچھ حصے کو کرایہ پر دیا، متعلقہ سب لیز اپنے نام حاصل کی اور مختلف امور میں بطور مالک تصرف کیا۔ اب مذکورہ وارث یہ دعویٰ کر رہاہے کہ وہ تقسیم کے وقت بھی اس پر راضی نہیں تھااور اب بھی راضی نہیں ہے۔

دریافت طلب امور:

کیا ایسی صورت میں مذکورہ وارث کا عدم رضامندی کا دعویٰ شرعاً معتبر ہے؟اس صورتِ حال میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃ صحیح ہے کہ مذکور جائیداد اگر واقعۃً تمام بالغ ورثاء کے درمیان باہمی رضامندی سےتقسیم ہوئی، اور  ہر  وارث نے اپنے حصے پر قبضہ حاصل کر لیا تھا اور طویل عرصے تک اس میں مالکانہ تصرفات جیسے تعمیرات، رہائش، کرایہ داری وغیرہ کیے، تو شرعی طور پر یہ تقسیم مکمل اور لازم ہو گئی۔ مذکورہ وارث کا اب یہ دعویٰ کرنا کہ وہ "تقسیم پر راضی نہیں تھا"، شرعاً معتبر نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ثم شرع في مسألة التخارج) تفاعل من الخروج وهو في الاصطلاح تصالح الورثة على إخراج بعضهم عن الميراث على شيء من التركة عين أو دين قال في سكب الأنهر وأصله ما روي أن عبد الرحمن بن عوف - رضي الله تعالى عنه - طلق في مرض موته إحدى نسائه الأربع ثم مات وهي في العدة فورثها عثمان - رضي الله تعالى عنه - ربع الثمن فصالحوها عنه على ثلاثة وثمانين ألفا من الدراهم وفي رواية من الدنانير وفي رواية ثمانين ألفا وكان ذلك بمحضر من الصحابة من غير نكير اهـ....  أنهم لو أخرجوا واحدا، وأعطوه من مالهم فحصته تقسم بين الباقي على السواء وإن كان المعطى مما ورثوه فعلى قدر ميراثهم قال الشارح هناك وقيده الخصاف بكونه عن إنكار فلو عن إقرار فعلى السواء اهـ فتأمله."

( كتاب الفرائض، باب المخارج، ج: 6، ص: 811، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف (وفي) إخراجه عن (نقدين) وغيرها بأحد النقدين لا يصح (إلا أن يكون ما أعطي له أكثر من حصته من ذلك الجنس) تحرزا عن الربا، ولا بد من حضور النقدين عند الصلح وعلمه بقدر نصيبه شرنبلالية وجلالية ولو بعرض جاز مطلقا لعدم الربا، وكذا لو أنكروا إرثه لأنه حينئذ ليس ببدل بل لقطع المنازعة."

( كتاب الصلح، فصل في التخارج، ج: 5، ص: 642، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100203

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں