بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 محرم 1448ھ 26 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

باہر سے قاری بلا کر گھر اور باہر کی خواتین کے لیے باجماعت تراویح کا انتظام کرنے کا حکم


سوال

ہمارے گھر میں ماہِ رمضان کے دوران نمازِ تراویح کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں باہر سے قاری صاحبان تشریف لاتے ہیں۔ مرد حضرات گھر کے نچلے حصے میں قاری صاحب کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں، جب کہ ہمارے گھر کی خواتین اور قاری صاحب کے گھر کی خواتین اوپر چھت پر نماز میں شریک ہوتی ہیں۔ اس انتظام کی وجہ سے آواز پہنچانے کے لیے اسپیکر لگانا پڑتا ہے، اور محلے کی بعض خواتین بھی تراویح کی نماز ادا کرنے کے لیے آ جاتی ہیں۔

براہِ کرم اس بارے میں راہ نمائی فرمائیں کہ آیا یہ طریقہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور کیا اس صورت میں نمازِ تراویح ادا کرنا جائز ہے؟

جواب

عورتوں کے لیے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں جانا، یا گھر سے باہر کسی بھی جگہ جا کر باجماعت نماز میں شرکت کرنا مکروہ ہے، خواہ وہ فرض نماز ہو، عید کی نماز ہو یا تراویح کی جماعت۔ حضور ﷺ کے زمانے میں عورتیں مسجد میں نماز کے لیے آتی تھیں۔ وہ بہترین زمانہ تھا، آپ ﷺ بنفسِ نفیس موجود تھے، وحی نازل ہو رہی تھی، اسلامی احکام آ رہے تھے، اور عورتوں کے لیے بھی دین و شریعت کے احکام سیکھنا ضروری تھا۔ مزید یہ کہ آپ ﷺ کی مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب بھی عام مساجد سے کئی گنا زیادہ تھا۔ لیکن اس وقت بھی عورتوں کو یہی حکم تھا کہ وہ عمدہ لباس اور زیورات پہن کر نہ آئیں، خوشبو لگا کر نہ آئیں، نماز ختم ہوتے ہی مردوں سے پہلے واپس چلی جائیں۔ ان پابندیوں کے ساتھ اجازت ہونے کے باوجود بھی آپ ﷺ نے یہی ترغیب دی کہ عورتوں کے لیے گھر میں، بلکہ گھر کے اندرونی حصے میں نماز پڑھنا، مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔

آپ ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد جب حالات بدل گئے، اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے زمانے میں یہ دیکھا کہ عورتیں ان پابندیوں کا خیال نہیں رکھتیں، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں، عورتوں کو مسجد آنے سے منع کر دیا گیا، اور گویا اس پر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتفاق ہو گیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عورتوں کی جو حالت آج ہو گئی ہے، اگر یہی حالت حضور ﷺ کے زمانے میں ہوتی تو آپ ﷺ عورتوں کو مسجد آنے سے منع فرما دیتے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب حضور ﷺ کے وصال کو زیادہ عرصہ بھی نہیں گزرا تھا۔ امّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کا مزاج خوب سمجھتی تھیں، اسی لیے فرمایا کہ اگر آپ ﷺ کے زمانے میں عورتوں کی ایسی حالت ہوتی تو آپ ﷺ عورتوں کو آنے سے منع فرما دیتے۔ لہٰذا موجودہ پُرفتن دور میں خواتین کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کریں، یہی ان کے لیے زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔

نیز امام کی اقتدا درست ہونے کے لیے امام اور مقتدی کا متحدالمکان ہونا بھی ضروری ہے، اور اتحاد بالمکان کے بارے میں مسجد اور غیرِ مسجد کے اعتبار سے الگ الگ تفصیلات ہیں۔ مسجد کا حکم یہ ہے کہ مسجد کا اندرونی حصہ، صحنِ مسجد، مضافاتِ مسجد، اسی طرح مسجد کی تمام منزلیں، یہ سب متحدالمکان شمار ہوتی ہیں۔ یعنی اگر کسی شخص نے مسجد کے صحن یا مسجد کی کسی منزل میں کھڑے ہو کر امام کی اقتدا کی تو اس کی اقتدا درست ہو جائے گی، خواہ صفوں کا اتصال بالفعل ہو یا نہ ہو۔ اگرچہ بلاعذر صفوں کے درمیان خلا رکھنا مکروہ ہوگا، جماعت سے نماز ادا ہو جائے گی۔ لیکن مسجد کے علاوہ کسی گھر یا عمارت میں باجماعت نماز ادا کرتے وقت صفوں کے درمیان بالفعل اتصال کا ہونا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ کسی عمارت کی کسی منزل میں ادا کی جانے والی نماز میں شرکت اسی صورت میں درست ہوگی جب صفوں میں حقیقی اتصال ہو، یعنی تمام مقتدی اسی منزل پر امام کے ساتھ صفیں بنائیں جس منزل پر امام نماز پڑھا رہا ہو، اور دو صفوں کے درمیان اتنی جگہ نہ چھوڑی جائے کہ اس میں دو صفیں بن سکیں۔ پس اگر اتصال نہ ہو تو جماعت میں شرکت درست نہ ہوگی۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں باہر سے قاری صاحبان بلا کر اپنے گھر کی خواتین اور باہر کی خواتین کے لیے باجماعت تراویح کا اس طرح انتظام کرنا کہ امام اور مرد نمازی نچلے حصے میں کھڑے ہوں، اور خواتین چھت پر کھڑی ہوں، شرعاً درست نہیں ہے، اس طرح خواتین چھت میں کھڑی ہوں، تو مذکورہ امام کی اقتدا درست نہیں ہوگی۔ لہٰذا عورتوں کو چاہیے کہ وہ گھروں میں جماعت کے بغیر انفرادی طور پر تراویح پڑھیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) يكره تحريما (‌جماعة ‌النساء) ولو التراويح. (قوله ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرضا أو نفلا."

(کتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:565، ط:سعيد)

وفیہ أیضاً:

"(ويمنع من الاقتداء) ... (طريق تجري فيه عجلة) آلة يجرها الثور (أو نهر تجري فيه السفن) ... (أو خلاء) أي فضاء (في الصحراء) أو في مسجد كبير جدا كمسجد القدس (يسع صفين) فأكثر. (قوله أو خلاء) بالمد: المكان الذي لا شيء به قاموس (قوله أو في مسجد كبير جدا إلخ) قال في الإمداد: والفاصل في مصلى العيد لا يمنع وإن كثر. واختلف في المتخذ لصلاة الجنازة. وفي النوازل: جعله كالمسجد، والمسجد وإن كبر لا يمنع الفاصل إلا في الجامع القديم بخوارزم، فإن ربعه كان على أربعة آلاف أسطوانة وجامع القدس الشريف أعني ما يشتمل على المساجد الثلاثة الأقصى والصخرة والبيضاء، كذا في البزازية اهـ ومثله في شرح المنية. وأما قوله في الدرر: لا يمنع من الاقتداء الفضاء الواسع في المسجد، وقيل يمنع اهـ فإنه وإن أفاد أن المعتمد عدم المنع لكنه محمول على غير المسجد الكبير جدا كجامع خوارزم والقدس بدليل ما ذكرناه، وكون الراجح عدم المنع مطلقا يتوقف على نقل صريح فافهم. [تتمة] في القهستاني: البيت كالصحراء. والأصح أنه كالمسجد ولهذا يجوز الاقتداء فيه بلا اتصال الصفوف كما في المنية اهـ ولم يذكر حكم الدار فليراجع، لكن ظاهر التقييد بالصحراء والمسجد الكبير جدا أن الدار كالبيت تأمل. ثم رأيت في حاشية المدني عن جواهر الفتاوى أن قاضي خان سئل عن ذلك، فقال: اختلفوا فيه، فقدره بعضهم بستين ذراعا، وبعضهم قال: إن كانت أربعين ذراعا فهي كبيرة وإلا فصغيرة، هذا هو المختار. اهـ. وحاصله أن الدار الكبيرة كالصحراء والصغيرة كالمسجد، وأن المختار في تقدير الكبيرة أربعون ذراعا. وذكر في البحر عن المجتبى أن فناء المسجد له حكم المسجد، ثم قال: وبه علم أن الاقتداء من صحن الخانقاه الشيخونية بالإمام في المحراب صحيح وإن لم تتصل الصفوف لأن الصحن فناء المسجد، وكذا اقتداء من بالخلاوي السفلية صحيح لأن أبوابها في فناء المسجد إلخ، ويأتي تمام عبارته. وفي الخزائن: فناء المسجد هو ما اتصل به وليس بينه وبينه طريق. اهـ. قلت: يظهر من هذا أن مدرسة الكلاسة والكاملية من فناء المسجد الأموي في دمشق لأن بابهما في حائطه وكذا المشاهد الثلاثة التي فيه بالأولى، وكذا ساحة باب البريد والحوانيت التي فيها."

(کتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:584، ط:سعيد)

البحرالرائق میں ہے:

"وينبغي للقوم إذا قاموا إلى الصلاة أن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا بين مناكبهم في الصفوف ولا بأس أن يأمرهم الإمام بذلك وينبغي أن يكملوا ما يلي الإمام من الصفوف، ثم ما يلي ما يليه وهلم جرا وإذا استوى جانبا الإمام فإنه يقوم الجائي عن يمينه، وإن ترجح اليمين فإنه يقوم عن يساره وإن وجد في الصف فرجة سدها وإلا فينتظر حتى يجيء آخر كما قدمناه، وفي فتح القدير وروى أبو داود والإمام أحمد عن ابن عمر أنه صلى الله عليه وسلم قال «أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيدي إخوانكم ولا تذروا فرجات للشيطان ومن وصل صفا وصله الله ومن قطع صفا قطعه الله» . وروى البزار بإسناد حسن عنه صلى الله عليه وسلم «من سد فرجة في الصف غفر له» . وفي أبي داود عنه صلى الله عليه وسلم قال «خياركم ألينكم مناكب في الصلاة»."

(کتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:375، ط: دار الکتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708100530

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں