بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

باہر ممالک میں مقیم افراد کے لیے سودی قرضہ لے کر گھر خریدنے یا بنانے کا حکم


سوال

میں اس وقت اٹلی میں اپنی فیملی (بیوی کے ساتھ) رہتا ہوں، یہاں پر ایک مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے، اٹلی میں اسلامی فائنانس یا حلال مورگیج کا کوئی مناسب آپشن دستیاب نہیں ہے، اور جو گھر کرائے پر ملتے ہیں وہ بہت زیادہ مہنگے ہیں، ہر سال کرایہ بڑھتا جا رہا ہے اور فیملی بھی بڑی ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ایک مستقل گھر لینا ضرورت بن گیا ہے۔ ابھی صرف ایک ہی آپشن موجود ہے، بینک سے انٹرسٹ (سود) پر مبنی مورگیج لینا۔

میرا سوال یہ ہے کہ: کیا اس حالت میں جب اسلامی فائنانس مہنگا (تقریباً ۱۰ تا ۲۰ فیصد زیادہ) اور  عملی طور پر مشکل ہو، اور انٹرسٹ بیسڈ مورگیج نسبتاً سستا اور آسانی سے دستیاب ہو، تو ایک مسلمان اٹلی جیسے ملک میں اپنے گھر کے لیے ایسا مورگیج لے سکتا ہے؟ (یعنی یہ کاروبار یا سرمایہ کاری کے لیے نہیں، بلکہ صرف رہائش کے لیے ہے۔) اگر اس صورت میں کوئی رخصت (اجتہادی رائے) یا ضرورت (ضرورۃ) کا پہلو ہے تو براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ضرورت کے باوجود دین کی حدود میں رہ کر فیصلہ کروں۔

جواب

بصورتِ مسئولہ مستقل کرائے کے گھر میں رہنا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کرایہ بڑھنے کی وجہ سے ادائیگی کا مشکل ہونا شرعاً ایسی ’’ضرورت‘‘ میں داخل نہیں ہے جس کی وجہ سے سودی قرضہ لے کر گھر  بنانے کی اجازت دی جاسکے۔ کیوں کہ حرام چیز شرعی نقطۂ نظر سے محض ضرورت اور اضطرار کے وقت حلال ہوتی ہے، اور ضرورت (اضطرار) کی تعریف فقہاءِ کرام نے یہ کی ہے کہ ’’جب حرام چیز کو استعمال کیے بغیر جان بچانے کی کوئی صورت ہی نہ ہو‘‘۔

لہذا مذکورہ بالا صورتِ حال میں جب کہ سائل کی یہ کیفیت نہیں ہے، اس لیے سائل کی پریشانی کو ’’حاجت‘‘ کے درجہ میں تو شمار کیا جاسکتا ہے، لیکن ’’ضرورت‘‘ کے درجہ میں قرار دے کر سودی قرضہ کو حلال نہیں کہا جاسکتا۔ آپ کو چاہیے کہ کہیں سے غیر سودی قرضہ لے کر گھر بنانے کی کوشش کریں، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اپنی آمدنی میں سے اس نیت سے کچھ نہ کچھ بچت شروع کریں، اور مستقل بنیادوں پر صلاۃ الحاجت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے جائز اور حلال طریقہ سے ذاتی گھر کا انتظام ہوجانے کی دعا بھی کریں، ان شاء اللہ ٗ اللہ تعالیٰ ضرور کوئی نہ کوئی سبب بنائیں گے۔

چناں چہ ’’فتاویٰ بینات‘‘ میں ہے:

’’نا واقف حضرات ہر معمولی حاجت کو اضطراری حالت کا نام دے لیتے ہیں، اس لیے ضروری ہوا کہ اس کی تنقیح کردی جائے۔ علامہ حموی شرحِ اشباہ میں لکھتے ہیں کہ یہاں پانچ درجے ہیں:

(۱) ضرورت (اضطرار)۔ (۲) حاجت۔ (۳) منفعت۔ (۴) زینت۔ (۵) فضول۔

اضطرار یہ ہے کہ ممنوع چیز کو استعمال کیے بغیر جان بچانے کی کوئی صورت ہی نہ ہو، یہی وہ اضطراری صورت ہے جس میں خاص شرائط کے ساتھ حرام کام کا استعمال مباح ہو جاتا ہے۔

حاجت یہ ہے کہ ممنوع چیز کو استعمال نہ کرنے سے ہلاکت کا اندیشہ تو نہیں، لیکن مشقت اور تکلیفِ شدید ہوگی، اس حالت میں نماز، روزہ، طہارت وغیرہ کے احکام کی سہولتیں تو ہوں گی، مگر حرام چیزیں مباح نہ ہوں گی۔‘‘

(کتاب الحظر والاباحۃ، ۴/ ۳۴۲، ط: مکتبہ بینات)

’’فتاویٰ رحیمیہ‘‘میں ہے:

’’سوال: زید کے پاس اپنی ملکیت کی زمین ہے، اس پر ایک مکان باندھنا چاہتا ہے، لیکن تعمیر کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہیں، تو ایسے وقت میں حکومت یا بینک سے لون سود سے رقم لے کر یہ مکان باندھ سکتا ہے؟

الجواب: سودی رقم لے کر مکان بنانا نا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب۔‘‘ 

(باب الربوا، ۹/ ۲۳۸، ط: دار الاشاعت، کراچی)

’’فتاویٰ محمودیہ‘‘ میں ایک مقام پر ہے:

’’سود دینا حرام ہے، ایسے شخص پر حدیث شریف میں لعنت آئی ہے، حرام کا ارتکاب اضطرار کی حالت میں معاف ہے، پس اگر جان کا قوی خطرہ ہے، یا عزت کا قوی خطرہ ہے، نیز اور کوئی صورت اس سے بچنے کی نہیں، مثلاً جائیداد فروخت ہوسکتی ہے، نہ روپیہ بغیر سود کے مل سکتا ہے، تو ایسی حالت میں زید شرعاً معذور ہے۔ اور اگر ایسی ضرورت نہیں بلکہ کسی اور دنیوی کاروبار کے لیے ضرورت ہے، یا ضرورت بغیر سود کے مل سکتا ہے، یا جائیداد فروخت ہوسکتی ہے، تو پھر سود پر قرض لینا جائز نہیں ہے، کبیرہ گناہ ہے۔‘‘

(باب الربوا، ۱۶/ ۳۰۵، ۳۰۶، ط: ادارۃ الفاروق)

عمدة القاري شرح صحيح البخاري میں ہے:

"حدثنا أبو الوليد قال حدثنا شعبة عن عون بن أبي جحيفة قال رأيت أبي اشترى عبدا حجاما فأمر بمحاجمه فكسرت فسألته، فقال : نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب وثمن الدم ونهى عن الواشمة والموشومة وآكل الربا وموكله ولعن المصور . . . قوله : (وآكل ‌الربا) أي : ونهى آكل ‌الربا عن أكله، وكذا نهى ‌موكله عن إطعامه غيره، ويقال : المراد من الآكل آخذه كالمستقرض، ومن ‌الموكل معطيه كالمقرض، والنهي في هذا كله عن الفعل، والتقدير : عن فعل الواشمة، وفعل الموشومة، وفعل الآكل وفعل ‌الموكل، وخص الآكل من بين سائر الانتفاعات لأنه أعظم المقاصد."

(كتاب البيوع، باب موكل الربا، ١١/ ٢٠٢-٢٠٣، ط: دار الفكر)

شرح النووي على مسلم میں ہے:

"(لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل ‌الربا ‌وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سواء) هذا تصريح بتحريم كتابة المبايعة بين المترابيين والشهادة عليهما وفيه تحريم الإعانة على الباطل."

(كتاب البيوع، باب الربا، ١١/ ٢٦، ط: دار إحياء التراث)

مرقاة المفاتيح شرح المشكاة میں ہے:

"قال الخطابي: سوى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين آكل ‌الربا ‌وموكله، إذ كل لا يتوصل إلى أكله إلا بمعاونته ومشاركته إياه، فهما شريكان في الإثم كما كانا شريكين في الفعل، وإن كان أحدهما مغتبطا بفعله لم يستفضله من البيع والآخر منهضما لما يلحقه من النقص، ولله عز وجل حدود فلا تتجاوز وقت الوجود من الربح والعدم وعند العسر واليسر، والضرورة لا تلحقه بوجه في أن يوكله ‌الربا، لأنه قد يجد السبيل إلى أن يتوصل إلى حاجة بوجه من وجوه المعاملة والمبايعة ونحوها. قال الطيبي رحمه الله: لعل هذا الاضطرار يلحق ‌بموكل فينبغي أن يحترز عن صريح ‌الربا فيثبت بوجه من وجوه المبايعة لقوله تعالى: وأحل الله البيع وحرم ‌الربا لكن مع وجل وخوف شديد عسى الله أن يتجاوز عنه ولا كذلك الآكل."

(كتاب البيوع، باب الربا، الفصل الأول، ٦/ ٤٣، ط: دار الكتب العلمية)

التحقيق الباهر شرح الأشباه والنظائر میں ہے:

"(وذکر في القنية والبغية : يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح) وهكذا في حاوي المنية. والظاهر أنه يجوز بما قل من الربح أو كثر . . . وفي القنية : يجوز بيع المقرض من المستقرض ما يساوي طسوجا بعشرة دنانير، فإنه على وفاق الدليل. قال الله تعالى : إلا أن تكون تجرة عن تراض منكم. وفيها : شراء الشيء اليسير بثمن غال إذا كان له حاجة للقرض يجوز ويكره. فعلم من هذا أن قول المصنف "يجوز الاستقراض بالربح" أي الاستقراض بشراءِ شيء يسير بثمن غال بالتراضي من المقرض؛ ليتوصل به إلى الربح، لا الربح المحض؛ لأنه حينئذ يكون ربا محضا. وبه يظهر بطلان ما قيل في تصويره : "أن يستقرض عشرة دنانير مثلا، ويجعل لربها شيئا معلوما في كل يوم ربحا" اهـ؛ لأنه ربا محض."

(الفن الأول، النوع الأول من القواعد الكلية: القاعدة الخامسة : الضرر يزال، ٢/ ٢١١-٢١٣، ط: دار اللباب)

فقط والله تعالى أعلم


فتویٰ نمبر : 144704101960

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں